پاکستان کی آئل انڈسٹری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا ہے کہ خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی سی آئی ایف (لاگت، بیمہ اور کرایہ برداری) بنیاد پر درآمد کی عارضی اجازت میں توسیع کی جائے، کیونکہ صنعت کے مطابق ایسا نہ ہونے کی صورت میں ملک میں ایندھن کی مسلسل فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اسٹیٹ بینک نے مارچ 2026 میں جغرافیائی و علاقائی کشیدگی کے باعث درپیش درآمدی مشکلات کو دیکھتے ہوئے یہ سہولت 60 روز کے لیے دی تھی۔
اس معاملے کی اصل الجھن انشورنس سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان میں عام طور پر تیل کی درآمد سی اینڈ ایف بنیاد پر کی جاتی ہے، جس میں فروخت کنندہ مال اور کرایہ تو بندرگاہ تک پہنچاتا ہے، مگر انشورنس، خاص طور پر وار رسک کور، خریدار کو الگ سے لینا پڑتا ہے۔ آئل کمپنیوں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں یہ بندوبست مہنگا بھی ہو گیا ہے اور مشکل بھی، کیونکہ خلیجی راستوں اور آبنائے ہرمز سے جڑے جہازوں کے لیے بیمہ لاگت بڑھ چکی ہے۔
صنعت کا مؤقف یہ ہے کہ ایسے غیر یقینی ماحول میں بیرونی سپلائرز مقامی خریداروں کے مقابلے میں بہتر شرائط پر انشورنس حاصل کر سکتے ہیں، اسی لیے سی آئی ایف کی اجازت ضروری ہے۔ پہلے بھی اس حوالے سے یہ نکتہ سامنے آیا تھا کہ کچھ درآمدی ٹینڈرز میں مناسب بولیاں نہیں آئیں، جس سے یہ خدشہ پیدا ہوا کہ اگر طریقۂ کار میں لچک نہ دی گئی تو ایندھن کی رسد سست پڑ سکتی ہے۔
یہ عارضی رعایت صرف ایک یا دو مصنوعات تک محدود نہیں تھی بلکہ خام تیل، ریفائنڈ پیٹرولیم مصنوعات اور متعلقہ درآمدات تک پھیلی ہوئی تھی۔ مقصد یہی تھا کہ شپنگ، فریٹ، انشورنس اور جنگی خطرات سے جڑی بڑھتی ہوئی لاگت کے باوجود درآمدی سلسلہ نہ رکے۔ اب جب یہ رعایت اپنی مدت پوری کرنے کے قریب ہے، تو آئل انڈسٹری کا کہنا ہے کہ بنیادی مسائل اب بھی ختم نہیں ہوئے۔
اس لیے صنعت چاہتی ہے کہ اجازت میں مزید توسیع دی جائے تاکہ درآمدی نظام اچانک پرانے فریم ورک میں واپس نہ چلا جائے۔ اگر ایسا ہوا تو خدشہ ہے کہ بعض کارگوز مہنگے پڑیں گے، کچھ ٹینڈرز کمزور رہیں گے، اور سپلائی چین غیر ضروری دباؤ میں آ جائے گی۔ یہ آخری نکتہ دستیاب رپورٹنگ اور صنعت کے پیش کردہ خدشات سے اخذ شدہ نتیجہ ہے۔
