بیروت — ایک لبنانی صحافی نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے کے دوران پیش آنے والے لمحات کی تفصیلات بیان کی ہیں، جس میں صحافی امَل خلیل ہلاک ہو گئیں۔ اس واقعے پر پریس فریڈم تنظیموں نے شدید مذمت کی ہے اور جنگی علاقوں میں صحافیوں کی حفاظت سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
امَل خلیل، لبنانی اخبار الاخبار کی نمائندہ، 22 اپریل 2026 کو قصبے العیطری میں اس وقت ہلاک ہوئیں جب وہ ایک پہلے حملے کے بعد ایک گھر میں پناہ لیے ہوئے تھیں، یہ معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)، کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (CPJ) اور انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے فراہم کی ہیں۔
الجزیرہ اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق امَل خلیل اس وقت جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مسماری کی کارروائیوں کی رپورٹنگ کر رہی تھیں۔ ان کی ساتھی صحافی زینب فراج اسی واقعے میں زخمی ہوئیں۔ پہلے حملے کے بعد جب ان کی گاڑی کے قریب دھماکہ ہوا تو دونوں صحافی ایک قریبی گھر میں پناہ لینے چلی گئیں، جہاں بعد میں دوسرا حملہ ہوا۔
دوسرے حملے کے نتیجے میں عمارت منہدم ہو گئی اور امَل خلیل ملبے تلے دب گئیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس اور پریس فریڈم تنظیموں کے مطابق علاقے میں مسلسل فائرنگ کی وجہ سے ریسکیو کارروائیاں تاخیر کا شکار رہیں۔ CPJ اور IFJ نے کہا کہ صورتحال کے باعث ان کی لاش نکالنے میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
پریس فریڈم اداروں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ CPJ نے صحافیوں کی ہلاکت پر شدید “تشویش اور غصے” کا اظہار کیا، جبکہ IFJ نے کہا کہ جنگی علاقوں میں کام کرنے والے میڈیا ورکرز کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ AP کے مطابق امَل خلیل 2006 سے اخبار الاخبار سے وابستہ تھیں۔
اسرائیلی حکام نے AP کو بتایا کہ علاقے میں بعض افراد نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی، تاہم انہوں نے صحافیوں کو نشانہ بنانے یا امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ واقعے کی تفصیلات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔
یہ واقعہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے اور صحافیوں کو درپیش بڑھتے ہوئے خطرات کے دوران پیش آیا ہے۔ AP کے مطابق اس سال لبنان میں کم از کم نو صحافی ہلاک ہو چکے ہیں، جو خطے میں میڈیا کی حفاظت پر بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔
