کوئٹہ: بلوچستان حکومت کے مطابق اتوار کے روز کوئٹہ میں شٹل ٹرین کو نشانہ بنانے والے طاقتور دھماکے میں کم از کم 14 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ متعدد زخمیوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ حکام نے شہر کے اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
رپورٹس کے مطابق ٹرین سیکیورٹی اہلکاروں اور ان کے اہلخانہ کو کوئٹہ کے کینٹونمنٹ علاقے سے جعفر ایکسپریس سے منسلک کرنے کے لیے لے جا رہی تھی کہ ریلوے ٹریک کے قریب دھماکا ہوا۔ بعد کی اطلاعات میں اموات کی تعداد زیادہ بتائی گئی، بعض حکام اور عالمی رپورٹس کے مطابق ہلاکتیں 23 سے 24 تک پہنچ گئیں جبکہ تقریباً 70 افراد زخمی ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جانی نقصان کے اعداد و شمار بدل رہے تھے۔
دھماکے کے نتیجے میں انجن اور کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ دو بوگیاں الٹنے اور ان میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جبکہ قریب موجود عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ ریسکیو ٹیمیں، پولیس اور سیکیورٹی اہلکار دھماکے کے فوراً بعد موقع پر پہنچ گئے۔
بلوچ لبریشن آرمی نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اسے خودکش حملہ قرار دیا۔ حکام کے مطابق بظاہر حملے کا ہدف سیکیورٹی اہلکار تھے، تاہم متاثرین میں عام شہری اور اہلکاروں کے اہلخانہ بھی شامل تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دھماکے کی شدید مذمت کی اور اسے دہشت گردی قرار دیا۔ صوبائی حکومت نے کہا کہ حملے میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں۔
یہ واقعہ بلوچستان میں ریلوے نیٹ ورک کی سیکیورٹی پر ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے۔ صوبے میں ماضی میں بھی ٹرینوں اور ریلوے ٹریکس کو شدت پسند حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں علیحدگی پسند گروہ سرگرم ہیں۔
بلوچستان طویل عرصے سے شورش کا شکار ہے، جہاں شدت پسند گروہ سیکیورٹی فورسز، بنیادی ڈھانچے اور ٹرانسپورٹ روٹس کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ تازہ دھماکا اس خدشے کو مزید بڑھاتا ہے کہ شدت پسند ایک بار پھر ریلوے سے منسلک اہداف پر توجہ دے رہے ہیں۔
فی الحال حکام کی توجہ زخمیوں کے علاج اور جاں بحق افراد کی شناخت پر ہے۔ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے، اس لیے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔
