ہانگ ژو، 24 مئی: وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور چین کے درمیان معاشی تعاون کے اگلے مرحلے کے لیے زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، خصوصی اقتصادی زونز اور کان کنی و معدنیات کو اہم ترین شعبے قرار دیتے ہوئے چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری، مشترکہ منصوبوں اور صنعتوں کی منتقلی کی دعوت دی ہے۔
ہانگ ژو میں پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اب صرف قرضوں یا امداد کا خواہش مند نہیں، بلکہ چین سے سرمایہ کاری، مہارت اور عملی کاروباری شراکت داری چاہتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ملکوں کے پاس موقع ہے کہ وہ روایتی تعاون سے آگے بڑھ کر ایسے منصوبے شروع کریں جو روزگار، برآمدات اور صنعتی پیداوار میں براہِ راست اضافہ کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف 23 مئی کو چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہانگ ژو پہنچے تھے۔ چین کی وزارت خارجہ کے مطابق یہ دورہ 23 سے 26 مئی 2026 تک جاری رہے گا، جبکہ وزیراعظم بیجنگ میں چینی قیادت سے بھی ملاقاتیں کریں گے۔
کانفرنس میں شہباز شریف نے زراعت کو خاص طور پر پاکستان کے لیے سب سے بڑا موقع قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بنیادی طور پر زرعی معیشت ہے، لیکن کم پیداوار، جدید ٹیکنالوجی کی کمی اور پراسیسنگ کے کمزور نظام کی وجہ سے عالمی منڈی میں اس کی اصل صلاحیت سامنے نہیں آ سکی۔ وزیراعظم نے کہا کہ چین سالانہ تقریباً 100 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتا ہے، اور اگر پاکستان بیج، مشینری، ویلیو ایڈیشن اور جدید زرعی طریقوں میں چینی تجربے سے فائدہ اٹھائے تو آئندہ پانچ سے سات برسوں میں چین کو زرعی برآمدات میں 10 ارب ڈالر تک اضافہ ممکن ہے۔
شہباز شریف نے چینی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان میں مقامی کاروباری اداروں کے ساتھ مشترکہ منصوبے شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نوجوان افرادی قوت، وسیع زرعی زمین، معدنی ذخائر اور صنعتی زونز موجود ہیں، مگر ان وسائل کو پیداوار اور برآمدات میں بدلنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ درکار ہے۔
وزیراعظم نے خصوصی اقتصادی زونز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاروں کو ون ونڈو آپریشن اور سہولت کاری فراہم کی جائے گی۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے کراچی میں 6 ہزار ایکڑ پر عالمی معیار کا خصوصی اقتصادی زون بنانے کا بھی حوالہ دیا، جہاں سرمایہ کاروں کو بہتر سہولتیں دینے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
آئی ٹی اور ٹیلی کام بھی اس دورے کے اہم نکات میں شامل ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم ہانگ ژو میں پاکستان-چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کر رہے ہیں، جس میں آئی ٹی و ٹیلی کام، بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹمز اور زراعت پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کے شیڈول میں چینی کاروباری رہنماؤں سے ملاقاتیں اور علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ بھی شامل ہے۔
یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اسلام آباد چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، کو اس کے دوسرے مرحلے میں صنعتی تعاون، زراعت، ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کی شراکت داری کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ گزشتہ برس بھی پاکستان اور چین کے درمیان اربوں ڈالر کے سرمایہ کاری معاہدے ہوئے تھے جن میں زراعت، قابلِ تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیاں، صحت اور اسٹیل سمیت کئی شعبے شامل تھے۔
تاہم اصل امتحان اب عمل درآمد کا ہے۔ چینی سرمایہ کار پاکستان میں مواقع ضرور دیکھتے ہیں، لیکن وہ پالیسی کے تسلسل، سکیورٹی، ٹیکس نظام، بیوروکریسی اور کاروبار میں آسانی جیسے معاملات کو بھی اتنی ہی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔ شہباز شریف کی حکومت کا پیغام یہی ہے کہ پاکستان اب صرف منصوبوں کا اعلان نہیں کرنا چاہتا، بلکہ چینی سرمایہ کاری کو فیکٹریوں، برآمدات، زرعی پیداوار اور روزگار میں بدلنا چاہتا ہے۔
دورے کے اگلے مرحلے میں وزیراعظم کی بیجنگ میں اعلیٰ چینی قیادت سے ملاقاتیں متوقع ہیں، جہاں سی پیک کے نئے مرحلے، سرمایہ کاری کے تحفظ، صنعتی تعاون اور پاکستان چین سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
