وزیراعظم شہباز شریف نے آئندہ مالی سال کے لیے پیش کردہ 1.126 ٹریلین روپے کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کو مسترد کرتے ہوئے اس میں 200 ارب روپے کے اضافے کا حکم دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب منصوبہ بندی کمیشن کو مجموعی بجٹ کا حجم 1.326 ٹریلین روپے تک بڑھانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر نظرِ ثانی کرنی ہوگی۔
وزیراعظم کی یہ ہدایت ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب ان کی حکومت آئی ایم ایف کی سخت شرائط اور ملکی معاشی بحران کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ترقیاتی اخراجات میں اضافے کا مطالبہ معاشی سرگرمیوں کو تیز کرنے کی حکومتی خواہش کا عکاس ہے، تاہم اس اضافی 200 ارب روپے کے ذرائع تلاش کرنا معاشی ٹیم کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام کو اب نئے اہداف کے مطابق فنڈز کی دوبارہ تقسیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ دباؤ اس بات پر ہے کہ بجٹ کو غیر ضروری یا تعطل کا شکار منصوبوں میں پھیلانے کے بجائے ان منصوبوں کو ترجیح دی جائے جو فوری معاشی نتائج دے سکیں۔
دوسری جانب معاشی ماہرین بجٹ کے اعداد و شمار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی نئے بجٹ میں ٹیکسوں کے بھاری بوجھ کے باعث تنقید کی زد میں ہے، ایسے میں مالیاتی خسارے کو بڑھائے بغیر مزید 200 ارب روپے کا انتظام کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہے۔ وزارتِ خزانہ نے خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے محتاط انداز اپنایا تھا، لیکن وزیراعظم دفتر کی ترجیح عوامی فلاح اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر مرکوز ہے۔
نظرِ ثانی شدہ پی ایس ڈی پی میں توانائی کے شعبے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت جاری مواصلاتی منصوبوں کو سرفہرست رکھا جائے گا۔ یہ منصوبے طویل عرصے سے حکومت کے لیے ترقیاتی اہداف کے حصول کا اہم ذریعہ رہے ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، نظرِ ثانی شدہ مسودہ چند روز میں تیار کر لیا جائے گا۔ یہ تاحال واضح نہیں ہے کہ اضافی رقم اندرونی بچتوں سے نکالی جائے گی یا انتظامی اخراجات میں کٹوتی کی جائے گی۔
فی الحال حکومت کا سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں اضافہ معاشی پہیے کو متحرک کر دے گا۔ تاہم اصل امتحان یہ ہوگا کہ کیا یہ فنڈز زمینی حقائق بدلنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر پرانے منصوبوں کی طرح بیوروکریسی کی نذر ہو جاتے ہیں۔
