اسلام آباد: پاکستان نے زیتون کی پیداوار اور اس سے وابستہ صنعت کو فروغ دینے کے لیے جامع قومی اولیو ویلیو چین تشکیل دینے کی کوششیں تیز کردی ہیں۔ اس اقدام کا مقصد زیتون کی کاشت، پیداوار، پروسیسنگ، معیار، پیکیجنگ، برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے مختلف مراحل کو ایک مربوط نظام کے تحت لانا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے 15 ستمبر کو اولیو کلچر پروجیکٹ کی ٹیم کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی، جس میں منصوبے پر ہونے والی پیش رفت اور پاکستان میں جامع قومی زیتون ویلیو چین کی ترقی کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
مجوزہ نظام کے تحت زیتون کے شعبے کے مختلف مراحل کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے پر توجہ دی جائے گی، جس میں کاشت، فصل کی برداشت، پروسیسنگ، پیکیجنگ، معیار کی جانچ، برانڈنگ، مارکیٹنگ اور صارفین تک رسائی شامل ہیں۔
حکام اور شعبے سے وابستہ ماہرین کے مطابق ایک مربوط ویلیو چین سے زیتون کے کاشتکاروں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ معیاری پروسیسنگ اور پیکیجنگ کے ذریعے پاکستانی زیتون اور زیتون کے تیل کو ملکی و عالمی مارکیٹ میں زیادہ مسابقتی بنایا جاسکتا ہے۔
اولیو کلچر پروگرام کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایک ایسا فارم ٹو فورک نظام قائم کرنا ہے جس میں حکومتی اداروں، نجی شعبے، کسانوں، تحقیقاتی اداروں، خواتین، نوجوانوں اور صارفین کو شامل کیا جائے۔
پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لیے مختلف علاقوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ اس شعبے کی ترقی سے نہ صرف مقامی خوردنی تیل کی پیداوار میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ دیہی علاقوں میں روزگار، چھوٹے کاروبار اور زرعی مصنوعات کی برآمدات کے نئے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں۔
قومی ویلیو چین میں معیار اور سرٹیفکیشن کو بھی خصوصی اہمیت دی جارہی ہے۔ جدید پروسیسنگ، حفظان صحت کے بہتر طریقہ کار، معیاری پیکیجنگ اور برانڈنگ کے ذریعے پاکستانی زیتون کی مصنوعات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔
اولیو کلچر منصوبہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے کلائمیٹ اسمارٹ زیتون کی کاشت اور زرعی شعبے میں خواتین و نوجوانوں کی شمولیت پر بھی زور دیتا ہے۔
حکومت کی جانب سے قومی زیتون ویلیو چین پر توجہ پاکستان کے زرعی شعبے میں تنوع پیدا کرنے، دیہی آمدن بڑھانے اور زیتون کی صنعت کو ایک منظم اور پائیدار کاروباری شعبے میں تبدیل کرنے کی جانب اہم قدم قرار دی جارہی ہے۔
