وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجوزہ 1.51 کھرب روپے کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کا جائزہ شروع کر دیا ہے، اور وزیرِاعظم شہباز شریف نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اگلے بجٹ میں ترقیاتی فنڈز روایتی انداز میں تقسیم نہیں ہوں گے۔ حکومتی جائزہ عمل میں اب یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون سی وزارتیں اور ڈویژنز بہتر کارکردگی دکھا رہی ہیں اور کن شعبوں کو کم ترجیح دی جا سکتی ہے۔
اس پوری بحث کا اصل مرکز ایک بڑا مالی خلا ہے۔ ایک طرف وزارتِ منصوبہ بندی نے جاری اور مجوزہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے تقریباً 2.9 کھرب روپے مانگے ہیں، دوسری طرف وزارتِ خزانہ نے اگلے مالی سال کے لیے صرف 1.126 کھرب روپے کی indicative ceiling دی ہے۔ سیدھی بات یہ ہے کہ حکومت کے ترقیاتی عزائم اس وقت دستیاب مالی گنجائش سے کہیں بڑے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ PSDP کا جائزہ اس بار معمول کی کارروائی نہیں لگ رہا۔
اسی پس منظر میں 1.51 کھرب روپے کی زیرِ غور رقم سامنے آتی ہے۔ یہ نہ تو وزارتِ منصوبہ بندی کی مکمل خواہش کے برابر ہے اور نہ ہی وزارتِ خزانہ کے سخت بجٹ سقف کے اندر آرام سے فٹ بیٹھتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بجٹ کے آخری مرحلے تک پہنچتے پہنچتے مزید کٹوتیاں، ترجیحات کی نئی درجہ بندی، اور کئی منصوبوں کی رفتار میں ردوبدل تقریباً ناگزیر دکھائی دیتا ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف ترقیاتی اخراجات کو محض سیاسی یا روایتی تقسیم کے بجائے کارکردگی اور قابلِ پیمائش معاشی نتائج سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے آبی ذخائر، پن بجلی، اور ایسے منصوبوں کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے جو معیشت پر براہِ راست اثر ڈال سکیں۔ ساتھ ہی حکومت public-private partnership ماڈل کو بھی زیادہ فعال انداز میں استعمال کرنے کی بات کر رہی ہے تاکہ ہر منصوبے کا بوجھ مکمل طور پر سرکاری خزانے پر نہ آئے۔
اس معاملے کا ایک اہم بین الاقوامی پہلو بھی ہے۔ پاکستان نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ FY27 کے ترقیاتی بجٹ میں نئے منصوبوں کا حصہ مجموعی PSDP کے 10 فیصد سے کم رکھا جائے گا، جبکہ زیادہ وسائل جاری منصوبوں کی تکمیل پر خرچ کیے جائیں گے۔ یہ وعدہ اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت اب کم از کم کاغذی سطح پر اس پرانی روش کو محدود کرنا چاہتی ہے جس میں نئے منصوبے شروع تو ہو جاتے ہیں مگر پرانے منصوبے ادھورے رہ جاتے ہیں۔
یہ دباؤ صرف آئندہ سال کی منصوبہ بندی تک محدود نہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں ترقیاتی فنڈز کے اجرا اور حقیقی استعمال کے درمیان بھی نمایاں فرق رہا ہے، جس سے یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ کیا مسئلہ صرف پیسے کی کمی ہے یا عملدرآمد کی صلاحیت بھی کمزور ہے۔ اسی لیے اگلے PSDP میں صرف رقم بڑھا دینا شاید کافی نہ ہو؛ حکومت کو یہ بھی دکھانا ہوگا کہ مختص فنڈز واقعی خرچ بھی ہو سکتے ہیں اور وقت پر نتائج بھی دے سکتے ہیں۔
اصل سیاسی امتحان اب بجٹ کے قریب آئے گا۔ ایک نسبتاً چھوٹا، زیادہ منتخب، اور کارکردگی پر مبنی PSDP مالی نظم و ضبط کے حق میں جا سکتا ہے، مگر اس کا دوسرا رخ یہ ہے کہ کئی وزارتیں، علاقوں کے نمائندے، اور سیاسی حلقے خود کو نظرانداز محسوس کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں ترقیاتی بجٹ صرف معیشت کا معاملہ نہیں ہوتا؛ یہ سیاسی نمائندگی، علاقائی توازن، اور آئندہ انتخابی بیانیے سے بھی جڑا ہوتا ہے۔ اسی لیے 1.51 کھرب روپے کے پروگرام پر جاری نظرثانی دراصل صرف حساب کتاب نہیں، بلکہ ترجیحات کی ایک بڑی سیاسی مشق بھی ہے۔
