پاکستان آکسیجن لمیٹڈ نے اعلان کیا ہے کہ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر متین امجد نے استعفیٰ دے دیا ہے اور ان کی رخصتی 25 جون 2026 سے مؤثر ہوگی۔ کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا ہے کہ اس استعفے سے خالی ہونے والی جگہ کو بعد میں متعلقہ قانونی اور ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق پُر کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ متین امجد کو صرف چند ماہ پہلے، 13 فروری 2026 کو، دوبارہ چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا گیا تھا اور ان کی مدت 2 اگست 2026 تک بڑھائی گئی تھی۔ اس لحاظ سے ان کا استعفیٰ بورڈ کی حالیہ توسیع شدہ مدت ختم ہونے سے پہلے آ گیا ہے۔
ابھی تک کمپنی نے کسی نئے یا عبوری سی ای او کا نام ظاہر نہیں کیا۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق پاکستان آکسیجن نے استعفے کی وجہ بھی عوامی طور پر نہیں بتائی، صرف یہ کہا ہے کہ خالی عہدہ مناسب وقت پر پُر کیا جائے گا۔
کمپنی کی مینجمنٹ پروفائل کے مطابق متین امجد 26 مارچ 2018 سے پاکستان آکسیجن کے سی ای او کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
پاکستان آکسیجن ملک کی پرانی اور نمایاں صنعتی کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ دستیاب کارپوریٹ معلومات کے مطابق کمپنی 1949 میں ایک نجی لمیٹڈ ادارے کے طور پر قائم ہوئی تھی اور 1958 میں پبلک لمیٹڈ کمپنی میں تبدیل ہوئی۔ یہ ادارہ صنعتی اور طبی گیسیں تیار کرتا ہے، ویلڈنگ الیکٹروڈز بناتا ہے، اور طبی آلات کی مارکیٹنگ بھی کرتا ہے۔
سرمایہ کاروں اور مارکیٹ مبصرین کی توجہ اب غالباً اگلے اعلان پر ہوگی، کیونکہ اصل سوال یہی ہے کہ کمپنی قیادت کا خلا کتنی جلدی اور کس نام سے پُر کرتی ہے۔ فی الحال خبر سیدھی ہے: پاکستان آکسیجن نے استعفیٰ قبول ہونے اور مؤثر تاریخ کی تصدیق کر دی ہے، مگر جانشین کا نام ابھی سامنے نہیں آیا۔
