اسلام آباد، 5 مئی — وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے منگل کے روز بجٹ 2026-27 سے پہلے مشاورتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے انشورنس اور میوچل فنڈ شعبوں کے نمائندوں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں بچتوں کے فروغ، سرمایہ کاری کے رجحان، ٹیکس ڈھانچے اور مالیاتی شعبے کی وسعت سے متعلق تجاویز پر بات ہوئی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ ملاقاتیں پری بجٹ مشاورت کے سلسلے کی کڑی ہیں، جن کا مقصد مختلف شعبوں سے سفارشات لے کر آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ممکنہ پالیسی فیصلوں کو بہتر بنانا ہے۔
وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کے مطابق پہلی ملاقات میوچل فنڈز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد سے ہوئی، جس کی قیادت چیئرمین شاہزاد دادا نے کی۔ اس نشست میں میوچل فنڈ انڈسٹری کے کردار، بچتوں کو منظم مالیاتی نظام میں لانے، مالیاتی وساطت بڑھانے اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی جیسے نکات زیرِ بحث آئے۔ وفد نے بجٹ 2026-27 کے لیے اپنی سفارشات بھی پیش کیں اور اس بات پر زور دیا کہ ریگولیٹری ماحول ایسا ہونا چاہیے جو میوچل فنڈز کی توسیع، متبادل سرمایہ کاری ذرائع اور ریٹیل سرمایہ کاروں کی زیادہ شمولیت میں مدد دے۔
اس ملاقات میں ایک اہم نکتہ قومی بچت اسکیموں سے متعلق بھی اٹھایا گیا۔ سرکاری اعلامیے کے مطابق وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ نیشنل سیونگز اسکیمز کو مارکیٹ کی مجموعی حرکیات سے ہم آہنگ کیا جانا چاہیے تاکہ مختلف بچتی مصنوعات کے درمیان مسابقتی توازن برقرار رہے۔ بظاہر یہ تکنیکی بات ہے، مگر اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ میوچل فنڈ انڈسٹری زیادہ مساوی مسابقتی ماحول چاہتی ہے تاکہ گھریلو بچتیں رسمی سرمایہ کاری ذرائع کی طرف آسکیں۔ یہ آخری نکتہ وزارتِ خزانہ کے اعلامیے کی بنیاد پر ایک تجزیاتی نتیجہ ہے، کوئی باقاعدہ حکومتی فیصلہ نہیں۔
بعد ازاں وزیرِ خزانہ نے انشورنس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت چیئرمین شوائب جاوید حسین نے کی۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق اس اجلاس میں بجٹ 2026-27 کے تناظر میں انشورنس شعبے کو درپیش ٹیکس اور ریگولیٹری معاملات پر توجہ دی گئی۔ وفد نے وفاقی اور صوبائی سطح کے ٹیکسوں کے باہمی تعلق، شعبے کے لیے زیادہ واضح اور پیش گوئی کے قابل ٹیکس فریم ورک، اور انشورنس سے متعلق قوانین کے اطلاق سے جڑی تجاویز پیش کیں۔
انشورنس شعبے نے صرف ٹیکس رعایتوں کی بات نہیں کی بلکہ پالیسی سطح پر ایک وسیع مؤقف بھی سامنے رکھا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق وفد نے انشورنس کی رسائی بڑھانے، بچتوں کے رجحان کو مضبوط بنانے، اور پالیسی ہولڈرز کے لیے ٹیکس مراعات بحال کرنے جیسے اقدامات تجویز کیے۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ طویل مدتی بچتی مصنوعات اور تنخواہ دار طبقے کی زیادہ شمولیت ایسے شعبے ہیں جن پر خصوصی توجہ دی جا سکتی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے سامنے یہ مؤقف رکھا جا رہا ہے کہ رسمی انشورنس اور بچتی مصنوعات کو زیادہ پرکشش بنایا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب بہت سے گھرانے مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ آخری جملہ دستیاب سرکاری مواد سے اخذ کردہ تجزیہ ہے۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے دونوں وفود کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور یقین دہانی کرائی کہ انہیں بجٹ سازی کے عمل میں غور کے لیے شامل کیا جائے گا۔ وزارتِ خزانہ کے مطابق انہوں نے مالیاتی شعبے کے مختلف اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت ایک ایسا متوازن پالیسی ماحول چاہتی ہے جو مالیاتی شعبے کی ترقی میں مدد دے، مگر مجموعی مالیاتی نظم و ضبط بھی برقرار رہے۔
یہ ملاقاتیں کسی الگ تھلگ سرگرمی کا حصہ نہیں بلکہ وسیع تر پری بجٹ مشاورتی عمل کا تسلسل معلوم ہوتی ہیں۔ وزارتِ خزانہ کی ویب سائٹ پر موجود ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت پہلے ہی بجٹ 2026-27 کے لیے باضابطہ عمل شروع کر چکی تھی، جبکہ حالیہ مہینوں میں مختلف اقتصادی اور کاروباری حلقوں سے مشاورت بھی جاری رہی ہے۔ اس پس منظر میں انشورنس اور میوچل فنڈ سیکٹر کے ساتھ بات چیت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ آئندہ بجٹ میں صرف محصولات نہیں بلکہ بچت، سرمایہ کاری اور مالیاتی شمولیت بھی اہم موضوعات رہ سکتے ہیں۔ آخری نکتہ ایک اداراتی تجزیہ ہے، حتمی بجٹ فیصلہ نہیں۔
ابھی تک وزارتِ خزانہ نے ان تجاویز پر کسی حتمی فیصلے، ممکنہ ٹیکس شرح، یا مالی اثرات کی تفصیل جاری نہیں کی۔ اس لیے فی الحال یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ حکومت مختلف شعبوں کی آرا جمع کر رہی ہے اور بجٹ 2026-27 کی تیاری میں مالیاتی شعبے کو نسبتاً زیادہ سنجیدگی سے سن رہی ہے۔ مگر اتنا واضح ہے کہ اس مرحلے پر بچتوں کی mobilization، انشورنس penetration اور ریٹیل سرمایہ کاری جیسے موضوعات پالیسی بحث کے مرکز میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔
