سندھ میں کاروباری حلقوں نے گزشتہ پانچ سال کے دوران انفراسٹرکچر سیس کی مد میں 1.5 کھرب روپے سے زائد وصولیوں پر سوال اٹھا دیے ہیں، کیونکہ صوبے کے کئی صنعتی علاقوں میں سڑکیں بدستور ٹوٹی ہوئی ہیں، نکاسی آب کا نظام کمزور ہے، پانی کی فراہمی غیر یقینی ہے اور ٹریٹمنٹ سہولیات بھی ناکافی ہیں۔
یہ معاملہ ایف پی سی سی آئی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن عدیل صدیقی نے اٹھایا۔ ان کا کہنا ہے کہ انفراسٹرکچر سیس کا مقصد صوبے میں صنعتی اور تجارتی انفراسٹرکچر کی بہتری ہونا چاہیے تھا، مگر زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔
انفراسٹرکچر سیس دراصل سندھ میں سمندر یا فضائی راستے سے آنے والی درآمدی اشیا پر وصول کیا جاتا ہے۔ سندھ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے مطابق یہ سیس consignment کے وزن کے حساب سے customs value کا تقریباً 1.80 فیصد سے 1.85 فیصد تک لیا جاتا رہا ہے۔ درآمد کنندگان کے لیے یہ ایک معمولی چارج نہیں، بلکہ وقت کے ساتھ صوبائی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے۔
صنعتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اتنی بڑی رقم وصول ہونے کے باوجود اس کا فائدہ صنعتی علاقوں میں نظر نہیں آتا۔ خاص طور پر حیدرآباد اور کوٹری کے صنعتی زونز کا ذکر کیا جا رہا ہے، جہاں صنعتکار خراب سڑکوں، کمزور سیوریج، پانی کی کمی اور waste treatment facilities کی عدم دستیابی یا غیر فعالیت کی شکایت کرتے ہیں۔
حیدرآباد SITE کی حالت اس بحث کو مزید نمایاں کرتی ہے۔ یہ صنعتی علاقہ 1952 میں قائم ہوا تھا اور تقریباً 1,264 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔ یہاں لگ بھگ 665 صنعتی یونٹس موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 450 فعال بتائے جاتے ہیں۔ اتنے پرانے اور اہم صنعتی علاقے کے باوجود بنیادی سہولیات کا فقدان کاروباری حلقوں کے لیے باعث تشویش ہے۔
کاروباری برادری کا بنیادی سوال بہت سیدھا ہے: اگر صوبے نے انفراسٹرکچر کے نام پر 1.5 کھرب روپے سے زائد جمع کیے ہیں، تو پھر صنعتی علاقوں کی سڑکیں اب تک خراب کیوں ہیں؟
عدیل صدیقی نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انفراسٹرکچر سیس کی وصولی اور استعمال کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔ ان کے مطابق یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ رقم کن منصوبوں پر خرچ ہوئی، کن علاقوں کو فائدہ پہنچا، اور صنعتی زونز کو ان کا جائز حصہ ملا یا نہیں۔
یہ مسئلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صنعت پہلے ہی مہنگی بجلی، ٹیکسوں کے دباؤ، بلند شرح سود، کمزور طلب اور پیداواری لاگت میں اضافے سے پریشان ہے۔ خراب انفراسٹرکچر صنعتکاروں کے لیے مزید اخراجات پیدا کرتا ہے۔ ٹوٹی سڑکوں سے مال برداری متاثر ہوتی ہے، گاڑیوں کی مرمت کے اخراجات بڑھتے ہیں، پانی اور نکاسی آب کے مسائل پیداوار کو متاثر کرتے ہیں، اور مجموعی طور پر کاروبار کی مسابقت کمزور ہوتی ہے۔
رواں سال سندھ حکومت نے انفراسٹرکچر سیس قانون میں ترمیم بھی کی تھی، جس کے تحت سیس کی شرح کم کر کے 1 فیصد سے کم کی گئی اور برآمدات پر اسے ختم کیا گیا۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ سابقہ ڈھانچے سے صوبے کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ تاہم ماضی میں جمع ہونے والی بڑی رقم کے استعمال کا سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔
کاروباری حلقوں کا مطالبہ صرف سڑکوں کی مرمت تک محدود نہیں۔ وہ اس رقم کا آڈٹ، شفاف تفصیلات اور منصوبوں کی واضح فہرست چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق جب صنعت سے انفراسٹرکچر کے نام پر رقم لی جاتی ہے، تو اس کا اثر سڑکوں، نکاسی آب، پانی کی لائنوں، صنعتی سہولیات اور treatment plants کی صورت میں نظر آنا چاہیے۔
مجموعی طور پر یہ معاملہ سندھ کے صنعتی نظام میں شفافیت اور گورننس کا بڑا سوال بن گیا ہے۔ اگر انفراسٹرکچر سیس واقعی ترقیاتی مقصد کے لیے ہے، تو اس کا فائدہ صنعتی علاقوں تک پہنچنا چاہیے۔ ورنہ کاروباری حلقوں کے لیے یہ ایک اور اضافی لاگت بن کر رہ جائے گا، جو پہلے ہی دباؤ کا شکار صنعت کو مزید کمزور کر سکتی ہے۔
