بیجنگ، 24 مئی: وزیراعظم شہباز شریف اتوار کو بیجنگ پہنچ گئے، جہاں وہ چین کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔ وزیراعظم اس سے قبل ہانگ ژو پہنچے تھے، جہاں انہوں نے پاکستان-چین بزنس ٹو بزنس سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق بیجنگ میں قیام کے دوران شہباز شریف چینی صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان-چین آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ کو مزید مضبوط بنانے، سی پیک فیز ٹو، تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور عوامی روابط پر بات چیت متوقع ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ نے اس دورے کو دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں ایک اہم اعلیٰ سطح تبادلہ قرار دیا ہے۔ بیجنگ کے مطابق صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ، شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے اور دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوگا۔
بیجنگ پہنچنے سے پہلے وزیراعظم نے ہانگ ژو میں چینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں صنعتیں منتقل کرنے اور مشترکہ منصوبے شروع کرنے کی دعوت دی۔ انہوں نے زراعت، آئی ٹی، خصوصی اقتصادی زونز، بیٹری انرجی اسٹوریج اور معدنیات کو تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔
اسلام آباد کے لیے اس دورے کی اہمیت صرف سفارتی گرمجوشی تک محدود نہیں۔ پاکستان چاہتا ہے کہ سی پیک کا نیا مرحلہ سڑکوں اور توانائی منصوبوں سے آگے بڑھ کر صنعت، برآمدات، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور نجی شعبے کی شراکت داری تک پہنچے۔ اصل سوال اب یہی ہے کہ اعلانات کو عملی منصوبوں، سرمایہ کاری اور روزگار میں کتنی تیزی سے بدلا جا سکتا ہے۔
