اسلام آباد — پاکستان کی معاشی ترقی کے حوالے سے کام کرنے والے نجی تھنک ٹینک ‘پرائم’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انتباہ جاری کیا ہے کہ گزشتہ برس شروع ہونے والی ملکی معیشت کی بحالی کا عمل جغرافیائی و سیاسی حالات اور اندرونی خرابیوں کے باعث تعطل کا شکار ہو گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، حکومت کی جانب سے اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے بینکنگ سیکٹر سے بے تحاشہ قرضے لینے کی پالیسی نے نجی شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔ مئی 2026 تک حکومت نے بینکوں سے 37.2 ٹریلین روپے کے قرضے اٹھائے، جو کہ نجی شعبے کو ملنے والے 13.8 ٹریلین روپے کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملکی بقا کو اس سنگین مالیاتی بحران کا سامنا ہے جہاں مجموعی وفاقی آمدنی کا 94 فیصد حصہ صرف قرضوں کی ادائیگی اور دفاعی اخراجات کی نذر ہو رہا ہے، جبکہ صحت، تعلیم اور ترقیاتی کاموں کے لیے صرف 6 فیصد رقم بچتی ہے۔
تھنک ٹینک نے بین الاقوامی درجہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشی آزادی کے عالمی انڈیکس پر پاکستان کا اسکور 48.9 ہے، جو اسے "مجبور اور پسے ہوئے” ممالک کی فہرست میں کھڑا کرتا ہے۔ رپورٹ میں ٹیکس کے نظام میں موجود سنگین تفریق کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں 2026-27 کے بجٹ کے تحت 50 لاکھ روپے کمانے والا ایک تنخواہ دار ملازم 33.29 فیصد تک بھاری ٹیکس ادا کر رہا ہے، جبکہ دوسری طرف اتنی ہی رقم کمانے والا ایک غیر دستاویزی دکاندار فکسڈ ٹیکس اسکیم کے تحت صرف 0.5 فیصد ٹیکس دیتا ہے۔ ماہرین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ عالمی مالیاتی ادارے کے پروگرام کے تحت عارضی اور ہنگامی اقدامات کرنے کے بجائے معاشی آزادی پر مبنی طویل مدتی پالیسی اپنائے۔ اس سلسلے میں تجارتی ٹیکس کو کم کر کے 25 فیصد کرنے، عام سیلز ٹیکس کو 15 فیصد تک لانے اور اضافی سپر ٹیکس کو مکمل طور پر ختم کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ نجی سرمایہ کاری کو دوبارہ بحال کیا جا سکے۔
