اسلام آباد: پاور ڈویژن نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، یعنی ڈسکوز، کو ہدایت کی ہے کہ سولر نیٹ میٹرنگ کے 1,355 زیر التوا کنکشنز کو یکم جون 2026 تک ہر صورت نصب اور فعال کیا جائے۔ یہ ہدایت ان صارفین کے لیے اہم ہے جنہوں نے سولر سسٹم پر لاکھوں روپے خرچ کیے، مگر کئی ماہ گزرنے کے باوجود ان کے نیٹ میٹرنگ کنکشنز مکمل نہیں ہو سکے۔
سرکاری ہدایات کے مطابق یہ کیسز ان درخواستوں سے متعلق ہیں جو 8 فروری 2026 سے پہلے جمع کرائی گئی تھیں، مگر ڈسکوز کی سطح پر تاخیر، اعتراضات یا تکنیکی ریکارڈ کی غلطیوں کے باعث اب تک حل نہیں ہو سکیں۔ پاور ڈویژن نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افسران کو واضح پیغام دیا ہے کہ غیر ضروری تاخیر اب معمول کی دفتری کارروائی سمجھ کر نظر انداز نہیں کی جائے گی۔
حکام کے مطابق تاخیر کے ذمہ دار افسران کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جا سکتی ہے، جبکہ ایسے افسران کے بونس روکنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے جنہوں نے نیٹ میٹرنگ منظوری، نیٹ بلنگ تنصیبات یا صارفین کی شکایات کے ازالے میں بلاجواز رکاوٹیں ڈالیں۔ اس کارروائی کا اطلاق فیلڈ سطح کے افسران، جن میں سپرنٹنڈنگ انجینئرز، ایگزیکٹو انجینئرز اور سب ڈویژنل افسران شامل ہو سکتے ہیں، پر بھی ہو سکتا ہے۔
اس معاملے کا ایک بڑا سبب بجلی کے نظام میں موجود ڈیٹا کی خرابی بھی بتایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کئی ٹرانسفارمرز صارفین کے ساتھ درست طور پر ٹیگ نہیں کیے گئے، جس کے باعث بعض ٹرانسفارمرز پر منظور شدہ لوڈ غیر معمولی دکھائی دیا۔ یہی غلط ریکارڈ کئی نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ کیسز کے مسترد ہونے یا رک جانے کی وجہ بنا۔ سیدھی سی بات ہے، غلطی سسٹم میں تھی، مگر اس کا نقصان صارف کو اٹھانا پڑ رہا تھا۔
پاور ڈویژن نے صارفین کی شکایات کے حل میں تاخیر پر بھی ناراضی ظاہر کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بجلی بندش سے متعلق کئی شکایات نیپرا کے مقررہ وقت کے اندر حل نہیں ہو رہیں، جو ڈسکوز کی مجموعی کارکردگی پر ایک اور سوالیہ نشان ہے۔
پاکستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران گھریلو اور کمرشل صارفین میں سولر سسٹمز کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ بجلی کی بلند قیمتوں نے صارفین کو متبادل ذرائع کی طرف دھکیلا، مگر نیٹ میٹرنگ کنکشنز میں تاخیر نے کئی خاندانوں اور کاروباری اداروں کے لیے مالی فائدہ ادھورا چھوڑ دیا۔ سولر پینل بجلی بنا رہے ہوتے ہیں، مگر جب تک نیٹ میٹر فعال نہ ہو، صارف کو وہ مکمل بل ایڈجسٹمنٹ نہیں ملتی جس کی بنیاد پر اس نے سرمایہ کاری کی ہوتی ہے۔
یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب نیٹ میٹرنگ اور نیٹ بلنگ کے نظام میں پالیسی تبدیلیوں کے باعث صارفین میں پہلے ہی بے یقینی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر وہ درخواست گزار جنہوں نے 8 فروری سے پہلے کاغذات جمع کرائے تھے، اس خدشے میں تھے کہ کہیں ان کے کیس نئی شرائط یا کم فائدہ مند فریم ورک میں نہ پھنس جائیں۔
اب تمام نظریں یکم جون پر ہیں۔ اگر ڈسکوز واقعی 1,355 کنکشنز کو مقررہ تاریخ تک فعال کر دیتی ہیں تو یہ سولر صارفین کے لیے بڑا ریلیف ہوگا۔ لیکن اگر یہ ڈیڈ لائن بھی گزر گئی، تو پھر مسئلہ صرف چند فائلوں کی تاخیر کا نہیں رہے گا؛ یہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جوابدہی کا ایک نیا امتحان بن جائے گا۔
