کراچی: ملیر انویسٹی گیشن پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایک مبینہ سیریل ریپسٹ کو گرفتار کرلیا ہے جو سوشل میڈیا پر جعلی نوکریوں کے اشتہارات اور پیشکشوں کے ذریعے نوجوان خواتین کو جال میں پھنساتا تھا۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم کی شناخت عامر علی کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو کراچی کے علاقے ملیر میں کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا، جبکہ اس کے تین مبینہ ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ گروہ خواتین کو روزگار کا لالچ دے کر رابطہ کرتا، پھر انہیں ایسے حالات میں لے جاتا جہاں ان کا جنسی استحصال کیا جاتا۔
ایس پی انویسٹی گیشن ملیر مجیدہ پروین کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزم مبینہ طور پر 17 سے 18 خواتین کو نشانہ بنا چکا ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزم پہلے بھی ڈکیتی اور زیادتی کے مقدمات میں ملوث رہا ہے، تاہم تازہ الزامات کی مزید تفتیش جاری ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھی سوشل میڈیا کے ذریعے اُن خواتین سے رابطہ کرتے تھے جو نوکری کی تلاش میں ہوتی تھیں۔ انہیں بہتر روزگار یا فوری ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا، پھر ملاقات کے بہانے بلا کر مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا۔ پولیس اب ملزمان کے موبائل فونز، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور متاثرہ خواتین سے ہونے والی ممکنہ گفتگو کا ریکارڈ حاصل کر رہی ہے۔
یہ معاملہ کراچی میں آن لائن فراڈ اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا رہا ہے۔ روزگار کی تلاش میں سوشل میڈیا پر انحصار کرنے والی خواتین خاص طور پر ایسے جرائم پیشہ عناصر کے نشانے پر آسکتی ہیں، کیونکہ اکثر جعلی بھرتی کرنے والے افراد خود کو قابلِ اعتماد ظاہر کرتے ہیں اور فوری ملازمت کا لالچ دیتے ہیں۔
پولیس نے ابھی تک ایف آئی آرز کی مکمل تفصیلات، استعمال ہونے والے مخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز یا تمام متاثرہ خواتین کی تعداد کے بارے میں حتمی معلومات جاری نہیں کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ مزید متاثرہ خواتین سامنے آسکتی ہیں، جبکہ گرفتار ملزمان سے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
قانونی طور پر ملزمان پر عائد الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں۔ تاہم پولیس کے دعوے کے مطابق یہ صرف ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ خواتین کو منظم انداز میں نشانہ بنانے کا معاملہ دکھائی دیتا ہے۔ تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ ملزم اور اس کے ساتھی کتنے مقدمات میں براہِ راست ملوث پائے جاتے ہیں۔
پولیس نے شہریوں، خاص طور پر خواتین، سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر ملنے والی نوکریوں کی پیشکشوں کی مکمل تصدیق کریں، نامعلوم افراد سے اکیلے ملاقات نہ کریں اور مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔
