فیفا ورلڈ کپ 2026 کا شمالی امریکہ کے گرم ترین موسم میں انعقاد کھیلوں کے ماہرین اور موسمیاتی سائنسدانوں کے لیے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ ڈیلس، ہیوسٹن اور میامی جیسے شہروں میں جون اور جولائی کے دوران درجہ حرارت اکثر 100 ڈگری فارن ہائیٹ (38 ڈگری سینٹی گریڈ) سے اوپر چلا جاتا ہے، جس سے کھلاڑیوں اور شائقین کی صحت پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
اگرچہ اسٹیڈیمز کے اندرونی حصے ایئر کنڈیشنڈ ہیں، لیکن شائقین کے لیے مختص ‘فین زونز’ اور اسٹیڈیم تک پہنچنے کے راستے اب بھی شدید گرمی کی زد میں ہیں۔ کھیلوں کی ماہرِ فعلیات ڈاکٹر ایلینا روسی کا کہنا ہے کہ ٹورنامنٹ کی سطح پر کھلاڑیوں کی کارکردگی اور جسمانی درجہ حرارت کا توازن برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔
ڈاکٹر روسی نے خبردار کیا کہ "یہ کوئی عام ورزش نہیں ہے۔ کھلاڑی اپنی جسمانی صلاحیتوں کی آخری حد پر کھیل رہے ہوتے ہیں۔ جب درجہ حرارت تین ہندسوں میں داخل ہو جائے تو انسانی جسم کا ٹھنڈک کا نظام جواب دے جاتا ہے۔”
فیفا نے ہیٹ مانیٹرنگ پروٹوکول کے تحت ریفریز کو اختیار دیا ہے کہ اگر درجہ حرارت ایک مخصوص حد سے تجاوز کرے تو وہ میچ کے دوران ‘کولنگ بریکس’ لے سکتے ہیں۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات احتیاطی کے بجائے ردِعمل پر مبنی ہیں۔ دوپہر کے اوقات میں شیڈول کیے گئے میچز، خاص طور پر امریکہ کے جنوبی شہروں میں، اب بھی سب سے بڑا تنازع بنے ہوئے ہیں۔
خطرات صرف میدان تک محدود نہیں ہیں۔ غیر ملکی شائقین، جو اس خطے کی حبس زدہ گرمی کے عادی نہیں ہیں، ہیٹ اسٹروک اور تھکن کا شکار ہو سکتے ہیں۔ میزبان شہروں کے ہنگامی طبی مراکز پہلے ہی ہنگامی بنیادوں پر منصوبے تیار کر رہے ہیں تاکہ ٹورنامنٹ کے دوران گرمی سے متاثرہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالا جا سکے۔
منتظمین کا موقف ہے کہ 48 ٹیموں کے ٹورنامنٹ کے لیے ان مخصوص مقامات کا انتخاب لاجسٹک مجبوری ہے۔ وہ اسٹیڈیمز کے جدید ایچ وی اے سی سسٹمز کو گرمی کے اثرات کم کرنے کا بہترین ذریعہ قرار دیتے ہیں۔
گزشتہ ایک دہائی کا موسمیاتی ڈیٹا بتاتا ہے کہ اس خطے میں ہیٹ ویوز کی شدت اور تعدد میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ ورلڈ کپ 2026 کا انعقاد اس بات کا امتحان ہوگا کہ آیا منتظمین کھیل کو گرمی کی شدت سے بچا سکتے ہیں یا پھر یہ ٹورنامنٹ اپنی کامیابیوں کے بجائے موسم کی سختیوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔
