پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کے دوران 3.7 فیصد شرح نمو ریکارڈ کی، جو گزشتہ چار برسوں میں سب سے تیز رفتار معاشی ترقی قرار دی جا رہی ہے۔
تاہم معاشی بہتری کے باوجود یہ شرح حکومت کے مقررہ ہدف سے کم رہی، جس کی بڑی وجوہات عالمی مالی دباؤ، مہنگائی اور اندرونی معاشی چیلنجز بتائے جا رہے ہیں۔
حکام کے مطابق زراعت، سروسز اور بعض صنعتی شعبوں کی بہتر کارکردگی نے مجموعی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ کاروباری سرگرمیوں میں بہتری اور معیشت کو مستحکم بنانے کے حکومتی اقدامات بھی شرح نمو بڑھانے میں معاون ثابت ہوئے۔
معاشی ماہرین نے اس پیش رفت کو پاکستان کی معیشت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طویل عرصے کی سست روی اور مالی غیر یقینی صورتحال کے بعد معاشی سرگرمیوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق مہنگائی، مالیاتی دباؤ اور بیرونی معاشی مسائل اب بھی بڑے چیلنجز ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جاری معاشی اصلاحات، سرمایہ کاری کے منصوبے اور استحکام کی پالیسیاں آئندہ برسوں میں مزید مضبوط اور پائیدار معاشی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گی۔
