پاکستان کے دفتر خارجہ نے نئی دہلی کو خبردار کیا ہے کہ دریائے سندھ کے پانی کے بہاؤ میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ رکاوٹ ڈالنے کے "دور رس اور سنگین نتائج” ہوں گے۔ یہ سخت بیان بھارتی وزراء کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (IWT) پر نظرثانی اور پانی کی تقسیم میں تبدیلی کے اشاروں کے بعد سامنے آیا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ نے جمعرات کو واضح کیا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی دستاویز ہے جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر تبدیل یا ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان توقع رکھتا ہے کہ بھارت اپنے وعدوں کی پاسداری کرے گا، کیونکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوئی بھی کوشش علاقائی امن کو مزید غیر مستحکم کر دے گی۔”
کشیدگی کی بنیادی وجہ بھارتی قیادت کے حالیہ بیانات ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عالمی بینک کی ثالثی میں طے پانے والا چھ دہائیاں پرانا پانی کا معاہدہ اب بھارت کے مفادات کے مطابق نہیں رہا۔ پاکستان کے لیے یہ معاملہ بقا کی جنگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ دریائے سندھ کا نظام پاکستان کی زرعی معیشت کی شہ رگ ہے، جو لاکھوں ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی پانی کی ضروریات کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بھارت میں انتخابی سیاست کے دوران اس معاہدے کے حوالے سے بیان بازی میں اضافہ ہوتا ہے، تاہم معاہدے کا قانونی ڈھانچہ اب بھی اپنی جگہ قائم ہے۔ سندھ طاس معاہدہ تین بڑی جنگوں اور متعدد سرحدی تناؤ کے باوجود اس لیے برقرار رہا کیونکہ دونوں ممالک اس کے تکنیکی میکانزم پر انحصار کرتے ہیں۔
اسلام آباد میں موجود ایک ماہرِ آبی امور کا کہنا ہے کہ "پانی کوئی سودے بازی کی چیز نہیں ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان نشیبی علاقہ ہے، اگر بھارت نے پانی کا بہاؤ روکا تو پاکستان کی غذائی تحفظ پر اس کے اثرات فوری اور تباہ کن ہوں گے۔”
بھارت اکثر پاکستان کے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کے ڈیزائن پر اعتراضات اٹھاتا رہا ہے، لیکن اس نے معاہدے کے بنیادی پانی کی تقسیم کے شقوں کی کھلی خلاف ورزی سے گریز کیا ہے۔ نئی دہلی کا حالیہ جارحانہ بیانیہ بظاہر پاکستان پر دیگر سیکیورٹی محاذوں پر دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش معلوم ہوتا ہے، تاہم دفتر خارجہ نے واضح کر دیا ہے کہ پانی ایک ایسی "سرخ لکیر” ہے جسے عبور کرنے کی قیمت بہت زیادہ ہوگی۔
فی الحال یہ معاہدہ اپنی جگہ برقرار ہے۔ لیکن دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی جنگ نے دنیا کے اس کامیاب ترین آبی معاہدے کو برسوں بعد شدید ترین سفارتی دباؤ میں لا کھڑا کیا ہے۔
