اسلام آباد: پاکستان کے ٹیکسٹائل شعبے نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ سے قبل حکومت کو خبردار کیا ہے کہ برآمد کنندگان پر مؤثر ٹیکس بوجھ بعض صورتوں میں 113 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس سے برآمدات، نقد رقوم کے بہاؤ اور عالمی منڈی میں پاکستان کی مسابقت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ موجودہ ٹیکس نظام منافع کے بجائے کاروباری حجم کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ نقصان اُن کمپنیوں کو ہو رہا ہے جو پہلے ہی کم منافع پر عالمی خریداروں کے لیے کام کرتی ہیں۔
صنعتی نمائندوں کے مطابق اصل مسئلہ برآمدی آمدن پر 2 فیصد پیشگی ٹیکس ہے۔ اگر کوئی کمپنی صرف 3 فیصد منافع پر کام کر رہی ہو تو 2 فیصد پیشگی ٹیکس اس کے سالانہ منافع کا تقریباً دو تہائی حصہ کھا جاتا ہے۔ اس کے بعد کمپنی کو مزید ٹیکس، محصولات، سماجی تحفظ کی ادائیگیاں اور دیگر لازمی واجبات بھی ادا کرنا پڑتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ ٹیکسٹائل شعبہ اسے صرف ٹیکس نہیں بلکہ برآمدات پر عملی دباؤ قرار دے رہا ہے۔
صنعتی تنظیموں کے مطابق برآمد کنندگان کو کمپنی انکم ٹیکس، سپر ٹیکس، ورکرز ویلفیئر فنڈ، ورکرز پرافٹ پارٹیسپیشن فنڈ، صوبائی سماجی تحفظ کے واجبات اور برآمدی آمدن پر پیشگی ٹیکس جیسے کئی بوجھ ایک ساتھ برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ پہلے صنعت نے مؤثر ٹیکس بوجھ تقریباً 68.27 فیصد بتایا تھا، مگر پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کی تازہ پیشکش میں کہا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں یہ بوجھ 113 فیصد تک جا پہنچتا ہے۔
صنعت کا مؤقف ہے کہ پاکستان کے برآمد کنندگان کو خطے کے مقابل ملکوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔ ٹیکسٹائل کونسل کے مطابق ویت نام میں مؤثر ٹیکس بوجھ تقریباً 20 فیصد، بنگلہ دیش میں 28 فیصد اور بھارت میں 35 فیصد ہے۔ عالمی خریداروں کے لیے یہ فرق بہت اہم ہوتا ہے، کیونکہ چند فیصد اضافی لاگت بھی آرڈر کو پاکستان سے کسی دوسرے ملک منتقل کر سکتی ہے۔
ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کا پیغام واضح ہے: اگر حکومت برآمدات بڑھانا چاہتی ہے تو برآمد کنندگان کا سرمایہ ٹیکسوں میں پھنسانا بند کرنا ہوگا۔
صنعت نے حکومت سے توانائی کے نرخ بھی خطے کے مقابلے میں مسابقتی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بجلی اور گیس کی مہنگی لاگت خاص طور پر اسپننگ، ویونگ، رنگائی، تکمیل اور ملبوسات سازی کے یونٹس کے لیے بڑا مسئلہ ہے۔ صنعت کاروں کا کہنا ہے کہ جب پیداواری لاگت پہلے ہی زیادہ ہو تو پاکستانی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی پڑتی ہیں۔
ایک اور بڑا مسئلہ ریفنڈز میں تاخیر ہے۔ برآمد کنندگان کے مطابق سیلز ٹیکس اور دیگر واجبات کی واپسی میں تاخیر سے اربوں روپے کاروباری گردش سے باہر رہتے ہیں۔ نتیجتاً کمپنیوں کو روزمرہ کام چلانے کے لیے مہنگے قرض لینے پڑتے ہیں۔ کم منافع، مہنگی توانائی اور رکے ہوئے ریفنڈز مل کر فیکٹریوں کے لیے آرڈر پورے کرنا مشکل بنا دیتے ہیں۔
ٹیکسٹائل شعبے نے حکومت سے سپر ٹیکس ختم یا کم کرنے، کم از کم ٹرن اوور ٹیکس میں کمی، زیر التوا ریفنڈز کی فوری ادائیگی، برآمدی مراعات کی بحالی اور بجٹ سے پہلے صنعت سے مشاورت کا مطالبہ کیا ہے۔ صنعت کار چاہتے ہیں کہ حکومت عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ بات چیت میں بھی برآمدی شعبے کی مشکلات کو سامنے رکھے، کیونکہ کئی مالیاتی فیصلے پاکستان کے قرض پروگرام اور آمدنی کے اہداف سے جڑے ہوئے ہیں۔
یہ معاملہ صرف چند صنعت کاروں کا نہیں۔ ٹیکسٹائل پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت ہے، جو کپاس، دھاگے، کپڑے، ملبوسات، تولیے، ڈینم، نٹ ویئر اور گھریلو ٹیکسٹائل سمیت لاکھوں افراد کے روزگار سے جڑی ہوئی ہے۔ یہی شعبہ ملک کے زرمبادلہ میں بھی بڑا حصہ ڈالتا ہے۔
صنعتی نمائندوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر آئندہ بجٹ میں ٹیکس ڈھانچہ درست نہ کیا گیا تو پاکستان مزید برآمدی آرڈر بنگلہ دیش، ویت نام اور بھارت کو کھو سکتا ہے۔ اُن کے مطابق عالمی خریدار پہلے ہی قیمت کے معاملے میں بہت حساس ہو چکے ہیں، اور معمولی لاگت کا فرق بھی آرڈر کے فیصلے کو بدل دیتا ہے۔
حکومت کے لیے معاملہ آسان نہیں۔ ایک طرف اسے بجٹ خسارہ کم کرنے اور آمدنی بڑھانے کی ضرورت ہے، دوسری طرف اگر برآمدی شعبے کو حد سے زیادہ نچوڑا گیا تو وہی صنعت کمزور ہو سکتی ہے جو ملک کے لیے ڈالر کماتی ہے۔
آئندہ مالی سال کا بجٹ یہ واضح کرے گا کہ حکومت ٹیکسٹائل شعبے کے انتباہ کو معمول کی صنعتی شکایت سمجھتی ہے یا اسے برآمدی معیشت کے لیے سنجیدہ خطرہ مان کر عملی اصلاحات کرتی ہے۔
