ماحولیاتی سائنس کی دنیا میں ایک غیرمعمولی تجویز نے نئی بحث چھیڑ دی ہے: اگر اٹلانٹک میریڈینل اوورٹرننگ سرکولیشن یعنی اے ایم او سی خطرناک حد تک کمزور ہو رہی ہے، تو کیا اسے بچانے کے لیے ایک انتہائی قدم اٹھایا جا سکتا ہے — بیرنگ آبنائے پر بند بنا کر؟
حالیہ ماڈلنگ تحقیق میں یہ خیال پیش کیا گیا ہے کہ اگر بیرنگ آبنائے کو بند کر دیا جائے تو بحرالکاہل سے نسبتاً کم نمکیات والا پانی آرکٹک کے راستے شمالی بحرِ اوقیانوس تک کم پہنچے گا۔ آسان لفظوں میں، اس سے سمندری پانی کی وہ کثافت برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے جو اے ایم او سی کو چلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اے ایم او سی دراصل سمندری دھاراؤں کا ایک بہت بڑا نظام ہے جو بحرِ اوقیانوس میں حرارت کو شمال کی طرف منتقل کرتا ہے اور یورپ سمیت کئی خطوں کے موسم اور آب و ہوا پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ سائنس دان برسوں سے خبردار کرتے آ رہے ہیں کہ جیسے جیسے زمین گرم ہو رہی ہے، یہ نظام کمزور پڑ سکتا ہے۔ برف کے پگھلنے اور بارشوں کے بدلتے رجحانات سے سمندر میں تازہ پانی بڑھتا ہے، اور یہی چیز اس نظام کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
بیرنگ آبنائے پر بند باندھنے کا خیال اسی نکتے سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کم نمکیات والا پانی کم داخل ہو، تو نظریاتی طور پر شمالی بحرِ اوقیانوس میں وہ حالات برقرار رکھنا آسان ہو سکتا ہے جو گہرے پانی کی تشکیل کے لیے ضروری ہیں۔ اور یہی عمل اے ایم او سی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
تحقیقی ماڈلز یہ نہیں کہتے کہ یہ حل ہر حالت میں کام کرے گا۔ بعض منظرناموں میں بیرنگ آبنائے کی بندش اے ایم او سی کو نسبتاً زیادہ دیر تک مستحکم رکھ سکتی ہے، جبکہ کچھ دوسری صورتوں میں یہی اقدام الٹا اثر بھی ڈال سکتا ہے۔ یعنی ایک ہی مداخلت، مختلف ماحولیاتی حالات میں، مختلف بلکہ متضاد نتائج دے سکتی ہے۔ اسی وجہ سے اس تجویز کو ابھی ایک سنجیدہ مگر انتہائی قیاسی سائنسی امکان سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ کوئی تیار منصوبہ۔
وقت کا عنصر بھی بہت اہم ہے۔ بعض ماڈلز کے مطابق اگر ایسی کوئی مداخلت کبھی کارآمد ہو بھی سکتی ہو، تو اسے کافی پہلے کرنا ہوگا۔ کچھ منظرناموں میں یہ قدم 2050 کے آس پاس درکار ہو سکتا ہے، جبکہ نسبتاً کم شدت والے حالات میں وقت کچھ آگے جا سکتا ہے۔ مگر عملی طور پر دیکھیں تو یہ کام صرف انجینئرنگ کا مسئلہ نہیں، بلکہ بین الاقوامی سیاست، ماحولیات، مالی لاگت اور جغرافیائی پیچیدگیوں کا بھی بہت بڑا معاملہ ہوگا۔
یہ خیال بالکل ہوا میں نہیں آیا۔ پرانی سائنسی تحقیق میں بھی یہ دیکھا گیا تھا کہ بیرنگ آبنائے کی بندش بعض حالات میں اے ایم او سی کو مضبوط کر سکتی ہے۔ اسی لیے یہ تصور وقتاً فوقتاً تحقیق میں واپس آتا رہا ہے۔ مگر یہ کہنا ابھی بہت جلد ہوگا کہ دنیا کو واقعی ایسا کرنا چاہیے، یا یہ کہ اس کے نتائج قابلِ اعتماد اور محفوظ ہوں گے۔
اصل میں اس پوری بحث کا سب سے اہم پہلو شاید یہ ہے کہ سائنس دان اب کتنے غیرروایتی خیالات پر بھی غور کر رہے ہیں۔ یہ بات خود اس تشویش کو ظاہر کرتی ہے جو اے ایم او سی کے مستقبل کے بارے میں بڑھ رہی ہے۔ پھر بھی مرکزی دھارے کی سائنسی رائے یہی ہے کہ اے ایم او سی کے خطرے کو کم کرنے کا سب سے قابلِ اعتماد راستہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ہے، نہ کہ سمندر کے اوپر ایک دیوہیکل بند تعمیر کرنا۔
تو کیا بیرنگ آبنائے پر بند بنا کر اے ایم او سی کو بچایا جا سکتا ہے؟
فی الحال جواب یہ ہے: نظریاتی طور پر شاید، عملی طور پر بہت غیر یقینی۔
یہ ایک دلچسپ، چونکا دینے والا اور کسی حد تک بے چینی پیدا کرنے والا خیال ضرور ہے، مگر ابھی یہ زیادہ ایک سائنسی مفروضہ ہے، کوئی طے شدہ حل نہیں۔
