بھکر کے علاقے بستی چانڈیا میں زمین کے دیرینہ تنازع نے ہفتے کے روز خونریز رخ اختیار کر لیا، جہاں دو مخالف گروپوں کے درمیان فائرنگ کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 3 افراد شدید زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کا واقع دو حریف گروپوں کے درمیان پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ زمین کا یہ تنازع گزشتہ ایک سال سے چل رہا تھا، اور وقت کے ساتھ یہ کشیدگی بڑھتی گئی۔ آخرکار معاملہ مسلح تصادم میں بدل گیا۔
جاں بحق ہونے والوں میں باپ اور بیٹا بھی شامل ہیں، جبکہ ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی پہلو اس سانحے کو مزید افسوسناک بنا دیتا ہے، کیونکہ یہ کوئی اچانک پیش آنے والا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسا خاندانی جھگڑا تھا جو کافی عرصے سے شدت اختیار کر رہا تھا۔
واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ پولیس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر تحقیقات شروع کر دیں۔ شواہد اکٹھے کرنے اور واقعے کی نوعیت جاننے کے لیے سرگودھا سے فرانزک ٹیم بھی طلب کر لی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈی ایچ کیو اسپتال بھکرمیں بھی پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی ممکنہ کشیدگی یا مزید تصادم کو روکا جا سکے۔ پوسٹ مارٹم اور قانونی کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کو سامنے لاتا ہے کہ دیہی علاقوں میں زمین کے تنازعات اکثر خاندانی دشمنیوں میں بدل جاتے ہیں۔ ابتدا میں یہ اختلاف وراثت، حد بندی یا ملکیت کے مسئلے سے شروع ہوتا ہے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ معاملہ ذاتی انتقام کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ جب اس میں اسلحہ شامل ہو جائے تو اصل تنازع پس منظر میں چلا جاتا ہے اور انسانی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔
فی الحال تفتیشی ادارے واقعے میں ملوث تمام افراد کی شناخت، فائرنگ کے مکمل تسلسل اور کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کو روکنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ اب تک سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق واقعے میں 5 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے ہیں۔
