فیصل آباد کے ایک نجی ہسپتال میں طبی غفلت کا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ڈاکٹروں نے نوزائیدہ بچے کو مردہ قرار دے کر ڈیتھ سرٹیفکیٹ جاری کر دیا، تاہم تدفین کی تیاریوں کے دوران بچہ زندہ پایا گیا۔
یہ واقعہ منگل کی صبح پیش آیا۔ ہسپتال انتظامیہ نے بچے کو مردہ قرار دے کر والدین کے حوالے کیا اور تدفین کے لیے ضروری دستاویزات بھی فراہم کر دیں۔ صدمے سے نڈھال اہل خانہ بچے کو لے کر گھر پہنچے اور آخری رسومات کی تیاریاں شروع کر دیں۔
"ہم پر قیامت گزر رہی تھی۔ ہم اپنے لخت جگر کو سپرد خاک کرنے کے لیے تیار تھے،” بچے کے والد نے ہسپتال کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔
تدفین سے قبل جب رشتہ داروں نے بچے کے جسم پر حرکت دیکھی تو انہیں شک گزرا۔ قریب سے معائنہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بچہ سانس لے رہا ہے۔ اہل خانہ فوری طور پر بچے کو ایک دوسرے ہسپتال لے گئے جہاں ڈاکٹروں نے تصدیق کی کہ بچہ زندہ ہے اور اسے فوری طور پر انکیوبیٹر میں منتقل کر دیا گیا۔
ابتدائی ہسپتال کی انتظامیہ واقعے پر کوئی ٹھوس جواب دینے سے قاصر ہے۔ ہسپتال حکام نے اسے لیبر روم اور نرسری عملے کے درمیان "مواصلاتی غلطی” قرار دیا ہے۔ واقعے کے بعد انتظامیہ نے متعلقہ عملے کو معطل کر دیا ہے، تاہم متاثرہ خاندان اس انکوائری کو محض خانہ پری سمجھتا ہے۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔ تفتیشی افسران ہسپتال کے میڈیکل ریکارڈز کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ کس ڈاکٹر نے بغیر مکمل طبی معائنے کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر دستخط کیے۔
اس واقعے نے صوبے میں صحت کے شعبے کی نگرانی کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ فی الحال، والدین کی تمام تر توجہ بچے کی زندگی بچانے پر مرکوز ہے۔ بچہ اس وقت ایک دوسرے ہسپتال کے آئی سی یو میں زیرِ علاج ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
بچے کے والد کا کہنا تھا کہ "یہ صرف ایک غلطی نہیں تھی، انہوں نے ہمیں زندہ درگور کرنے کی کوشش کی ہے۔”
