وفاقی حکومت نے مالی سال 2027 کے لیے موسمیاتی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق، اب توجہ فرسودہ انفراسٹرکچر سے ہٹا کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس پر مبنی ابتدائی انتباہی نظام کے قیام پر مرکوز ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد ڈیٹا کے حصول اور عوامی انتباہ کے درمیان موجود طویل وقفے کو ختم کرنا ہے، جس کا مطالبہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز طویل عرصے سے کر رہی تھیں۔
اس منصوبے کا مرکزی نقطہ "نیکسٹ جین فارکاسٹنگ انیشیٹو” ہے۔ حکومت مالی سال کے اختتام تک پہاڑی علاقوں اور ساحلی پٹیوں میں 50 نئے خودکار موسمیاتی اسٹیشن نصب کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ اسٹیشن محض درجہ حرارت ریکارڈ نہیں کریں گے، بلکہ فضائی دباؤ اور زلزلے کے جھٹکوں کا ڈیٹا براہ راست ایک مرکزی کلاؤڈ پلیٹ فارم تک پہنچائیں گے۔
یہ تبدیلی کیوں ضروری ہے؟ موجودہ نظام میں شدید موسمیاتی صورتحال کی نشاندہی اور عوام تک الرٹ پہنچنے میں کئی گھنٹوں کا فرق حائل رہتا ہے۔ ایسے ملک میں جہاں اچانک سیلاب اور ہیٹ ویوز معمول بن چکے ہوں، یہ چند گھنٹے انسانی جانوں کے ضیاع اور محفوظ انخلا کے درمیان فرق ثابت ہوتے ہیں۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ایک اعلیٰ افسر نے بتایا کہ "ہم ردعمل پر مبنی نگرانی سے نکل کر پیش گوئی کرنے والے ماڈلز کی طرف بڑھ رہے ہیں۔” انہوں نے تصدیق کی کہ وزارت نے مقامی عملے کی تربیت کے لیے بین الاقوامی تکنیکی شراکت داروں سے معاہدے کیے ہیں، تاہم انہوں نے ابتدائی تنصیب کے بعد نظام کی دیکھ بھال کے لیے بجٹ کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
یہ اقدام "آخری میل” تک انتباہ پہنچانے کے مسئلے کو بھی حل کرے گا۔ حکومت کا ارادہ ہے کہ ہنگامی الرٹس کو سیلولر نیٹ ورک کے ساتھ مربوط کیا جائے، تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں موبائل فونز پر لازمی الرٹ جاری کیا جا سکے۔ یہ نظام ریڈیو یا ٹیلی ویژن پر انحصار ختم کر دے گا، کیونکہ دور دراز دیہی علاقوں میں اب معلومات کے ذرائع بدل چکے ہیں۔
دوسری جانب، ناقدین حکومت کے ماضی کے "مہنگے مگر غیر مؤثر” ٹیکنالوجی منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ محکمہ موسمیات کے کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دور دراز اضلاع میں فائبر آپٹک کنیکٹیویٹی کو بہتر نہ بنایا گیا تو یہ جدید سینسرز کسی کام نہیں آئیں گے۔ ان کا موقف ہے کہ حکومت ہائی ٹیک آلات تو خرید رہی ہے، لیکن ان کو چلانے کے لیے درکار بنیادی ڈھانچے کی خستہ حالی کو نظر انداز کر رہی ہے۔
مالی سال 27 کے اس روڈ میپ کی کامیابی اس بات پر منحصر ہے کہ آیا حکومت ابتدائی فنڈنگ کے بعد بھی اس نظام کو برقرار رکھ پائے گی یا نہیں۔ فی الحال حکومت کا ماننا ہے کہ ہارڈویئر کو اپ گریڈ کرنا ہی گزشتہ مون سون سیزن کی ناکامیوں سے بچنے کا واحد راستہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ ٹیکنالوجی بدلتے ہوئے موسمیاتی حالات کی رفتار کا مقابلہ کر پائے گی یا نہیں۔
