آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کمیشن نے آئندہ قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے لیے امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی انتخابی مہم کا آخری اور فیصلہ کن مرحلہ شروع ہو گیا ہے، جہاں سیاسی جماعتیں کلیدی حلقوں میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
امیدواروں کی حتمی فہرست کے اجرا کے بعد اب کسی بھی امیدوار کی دستبرداری کا عمل ختم ہو چکا ہے۔ امیدوار اپنے اپنے حلقوں میں انتخابی نشانات کے ساتھ میدان میں اتر چکے ہیں، جبکہ سیاسی جماعتوں کی توجہ اب وادی اور پاکستان بھر میں موجود مہاجرین کے حلقوں میں عوامی رابطے پر مرکوز ہے۔
حکمران جماعت کے لیے یہ فہرست کئی اہم انتخابی معرکوں کی تصدیق کرتی ہے، جو اگلے پانچ برسوں کے لیے خطے کی سیاسی سمت کا تعین کریں گے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتخابی نشانات کی الاٹمنٹ پر تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے، تاہم الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ تمام تر عمل انتخابی ضابطہ اخلاق کے عین مطابق مکمل کیا گیا ہے۔
انتخابی میدان میں اس بار مقابلہ سخت دکھائی دیتا ہے۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے نامور امیدواروں کے ساتھ ساتھ آزاد امیدواروں کی بڑی تعداد بھی میدان میں موجود ہے، جس نے کئی اضلاع کو سیاسی اکھاڑے میں تبدیل کر دیا ہے۔ الیکشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ امیدواروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے انتظامات کا ازسرنو جائزہ لیا جا رہا ہے۔
پولنگ کا دن الیکشن کمیشن کی انتظامی صلاحیتوں کا امتحان ہوگا۔ ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ یعنی ووٹ ڈالنے کی شرح انتہائی اہمیت کی حامل ہے، کیونکہ علاقائی اور وفاقی سطح پر تمام اسٹیک ہولڈرز ان نتائج کو اپنی موجودہ پالیسیوں پر ریفرنڈم کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
فہرستوں کی اشاعت کے بعد الیکشن کمیشن اب بیلٹ پیپرز کی چھپائی اور پولنگ عملے کی تعیناتی پر توجہ مرکوز کر رہا ہے۔ امیدواروں کے پاس انتخابی مہم کے لیے وقت کم رہ گیا ہے، اور اب اصل چیلنج ووٹرز کو قائل کر کے اسے ووٹ میں تبدیل کرنا ہے۔
