کراچی کے ایک پوش علاقے میں فوڈ ڈیلیوری رائیڈر کو تھپڑ مارنے اور تذلیل کرنے کا وائرل واقعہ غیر متوقع انجام کو پہنچ گیا۔ منگل کو دونوں فریقین نے مقامی عدالت میں پیش ہو کر باہمی صلح نامے کی تصدیق کر دی، جس کے ساتھ ہی وہ قانونی کارروائی بھی ختم ہو گئی جس نے گزشتہ ایک ہفتے سے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا رکھی تھی۔
یہ واقعہ، جس میں ایک گاہک نے آرڈر میں تاخیر پر رائیڈر پر ہاتھ اٹھایا تھا، عوام میں شدید غم و غصے کا باعث بنا۔ شہر کے ہزاروں ‘گِگ ورکرز’ کے لیے یہ ویڈیو صرف ایک فرد پر تشدد نہیں، بلکہ ان روزمرہ کی توہین آمیز صورتحال کا عکاس تھی جو وہ کراچی کی مصروف سڑکوں پر گزر بسر کے لیے ہر روز برداشت کرتے ہیں۔
عدالت کے اندر کا منظر ویڈیو میں نظر آنے والی کشیدگی سے بالکل مختلف تھا۔ رائیڈر، جس نے ابتدائی طور پر مقدمہ درج کروایا تھا، نے جج کو بتایا کہ وہ اب مزید کارروائی نہیں کرنا چاہتا۔ اس نے "ذاتی وجوہات” کا ذکر کیا، تاہم اس معاملے سے واقف حلقوں کا کہنا ہے کہ قانونی اخراجات کا بوجھ اور روزگار کی فوری بحالی کی ضرورت نے اس صلح میں کلیدی کردار ادا کیا۔
دوسری جانب، حملہ آور شہری، جس کی شناخت سوشل میڈیا پر لیک ہونے کے بعد اسے شدید تنقید کا سامنا تھا، نے عدالت میں معافی مانگ لی۔ عدالت نے فریقین کے درمیان سمجھوتے کو قبول کرتے ہوئے کیس داخل دفتر کر دیا، جس کے بعد ملزم کو رہا کر دیا گیا۔
شہر کے ڈیلیوری رائیڈرز کی کمیونٹی کے لیے یہ فیصلہ مایوس کن ہے۔ قانونی جنگ تو ختم ہو گئی، مگر ان کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ ہزاروں رائیڈرز آج بھی وہی خطرات مول لے کر کام کر رہے ہیں، جنہیں اکثر وائرل توجہ یا قانونی مدد میسر نہیں ہوتی۔
عدالت کے باہر موجود ایک رائیڈر نے تلخ حقیقت بیان کرتے ہوئے کہا، "ہم صرف اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا نے چند دن کے لیے اسے بڑا معاملہ بنا دیا، لیکن کل ہمیں دوبارہ بائیک پر واپس جانا ہے، اور سڑکوں کے حالات نہیں بدلنے والے۔”
یہ واقعہ کراچی میں محنت کش طبقے کے لیے انصاف کی فراہمی کی کمزوری کو نمایاں کرتا ہے۔ ایک وائرل لمحے نے گِگ ورکرز کی مشکلات کو قومی سطح پر اجاگر تو کیا، لیکن عدالتی نظام نے کسی قانونی نظیر کے بجائے نجی تصفیے کو ترجیح دی۔ کیمرے بند ہوئے، ہجوم چھٹ گیا، اور رائیڈر اپنی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر دوبارہ اگلی ڈیلیوری کے لیے روانہ ہو گیا۔
