وزیراعظم شہباز شریف نے بھارت پر براہِ راست الزام عائد کیا ہے کہ وہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس کے دوران یہ بیان دونوں ایٹمی قوتوں کے درمیان کشیدگی میں ایک نئی اور تلخ پیش رفت ہے۔
وزیراعظم نے اپنے دعوے کی بنیاد حالیہ انٹیلی جنس رپورٹس پر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاستی اثاثے بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو مالی اور لاجسٹک معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ شہباز شریف نے ان اقدامات کو ایک "سوچی سمجھی سازش” قرار دیا جس کا مقصد پاکستان کی کمزور معیشت کو مزید غیر مستحکم کرنا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیکیورٹی اہلکاروں اور اہم تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے بھارت پر مداخلت کے الزامات عائد کرتا رہا ہے، تاہم وزیراعظم کے اس حالیہ بیان سے لگتا ہے کہ اسلام آباد اب علاقائی سیکیورٹی معاملات کو عالمی سطح پر زیادہ جارحانہ انداز میں اٹھانا چاہتا ہے۔
وزیراعظم نے کابینہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، "ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں۔” انہوں نے انٹیلی جنس ڈوزیئرز کی تفصیلات عوام کے سامنے تو نہیں رکھیں، مگر یہ واضح کیا کہ ان شواہد کو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ علاقائی پراکسی وار کے معاملے پر عالمی برادری کو متوجہ کیا جا سکے۔
نئی دہلی ان الزامات کو ہمیشہ "بے بنیاد” اور "پروپیگنڈا” قرار دے کر مسترد کرتا آیا ہے۔ بھارت کا موقف رہا ہے کہ پاکستان خود ان گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے جنہیں عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے۔ الزامات اور جوابی الزامات کا یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے، جس نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور سفارتی تعلقات کی بحالی کی تمام راہیں مسدود کر رکھی ہیں۔
اس کشیدگی کی بھاری قیمت دونوں ممالک ادا کر رہے ہیں۔ جہاں دونوں طرف سے ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں، وہیں لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی کے امکانات مزید معدوم ہوتے جا رہے ہیں۔
پاکستان کا ان الزامات کو عالمی سطح پر لے جانے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عسکری محاذ آرائی کے بجائے سفارتی دباؤ کو ترجیح دے رہی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عالمی طاقتیں اس معاملے پر کوئی نوٹس لیتی ہیں یا نہیں، کیونکہ بڑی عالمی قوتیں فی الحال اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان کسی بھی نئی کشیدگی میں ثالثی کا کوئی خاص رجحان نہیں رکھتیں۔
