کراچی میں ہفتے کے روز بھی اس 11 سالہ بچے کی تلاش جاری رہی جو سکییم 33 میں ایک بڑی واٹر لائن میں نہاتے ہوئے بہہ گیا تھا، مطابق ڈان رپورٹ۔ بچے کی شناخت زاہد محمد خان کے نام سے ہوئی ہے، جو جمعہ دوپہر تقریباً 2 بجے النور گارڈن کے قریب کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی لائن کے بہاؤ میں پھنس کر لاپتہ ہو گیا تھا۔
ریسکیو 1122 اور ایدھی فاؤنڈیشن کی ٹیموں نے جمعہ کی رات بھر تلاش جاری رکھی لیکن بچے کا سراغ نہ مل سکا۔ بعد ازاں کم روشنی کے باعث آپریشن روک دیا گیا۔ ہفتے کے روز تلاش دوبارہ گلستانِ جوہر کے دو مقامات پر شروع کی گئی، جن میں سماں مال اور کانٹی نینٹل بیکری کے قریب کے علاقے شامل ہیں، جبکہ ضلعی انتظامیہ بھی معاونت فراہم کر رہی ہے۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان حسن الہبیب خان نے ڈان کو بتایا کہ اسی علاقے میں ماضی کے واقعات میں لاشیں انہی مقامات سے ملی تھیں جہاں پانی کے بہاؤ میں آنے والی اشیاء کو روکنے کے لیے لوہے کی جالیاں (گرلز) نصب کی گئی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ تیز بہاؤ کے باعث ممکن ہے بچہ مزید نیچے کسی اور مقام تک بہہ گیا ہو، جس سے تلاش مزید مشکل ہو گئی ہے۔
اس واقعے نے ایک بار پھر کراچی کے کھلے نالوں اور واٹر انفراسٹرکچر کے خطرات کو اجاگر کر دیا ہے۔ ڈان کے مطابق گزشتہ سال نرسری (NIPA) کے قریب تین سالہ بچے کا ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جس نے طویل ریسکیو آپریشن کے بعد شدید عوامی ردعمل کو جنم دیا تھا۔
