الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے آئندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی قوانین میں وسیع تر ترامیم کا مسودہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ووٹنگ کے عمل کو شفاف بنانا اور ماضی میں درپیش تکنیکی و انتظامی رکاوٹوں کو دور کرنا ہے۔ گزشتہ انتخابات کے دوران انتخابی نتائج اور عمل پر اٹھنے والے سوالات کے بعد کمیشن پر اپنے طریقہ کار کو جدید اور غیر متنازع بنانے کا شدید دباؤ ہے۔
کمیشن کے قریبی ذرائع کے مطابق، ای سی پی کی توجہ ووٹر رجسٹریز کی ڈیجیٹل انٹیگریشن اور انتخابی مہم کے اخراجات پر سخت مانیٹرنگ پر مرکوز ہے۔ یہ تجاویز رواں ماہ کے آخر تک پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کے سامنے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
اس پیش رفت کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ گزشتہ انتخابات کے نتائج پر سیاسی جماعتوں کے تحفظات نے کمیشن کی ساکھ کو متاثر کیا تھا۔ اب کمیشن ان قانونی سقم کو دور کرنا چاہتا ہے جو انتخابی عمل کے دوران قانونی جنگ اور ملک گیر احتجاج کا سبب بنتے ہیں۔
مسودہ سازی میں شامل ایک عہدیدار نے بتایا کہ "ہم صرف تکنیکی خامیاں دور نہیں کر رہے، بلکہ ان قانونی راستوں کو بند کرنا چاہتے ہیں جن کی وجہ سے انتخابی رات ایک قانونی محاذ بن جاتی ہے۔”
اصلاحات کے اہم نکات یہ ہیں:
* انتخابی اخراجات: امیدواروں کے خرچ پر سخت حد بندی اور ڈیجیٹل ڈسکلوزر کو لازمی قرار دینا۔
* رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس): ماضی میں ناکام ہونے والے سافٹ ویئر کی جگہ ایک فول پروف متبادل نظام کا قیام۔
* پولنگ اسٹیشن کی سیکیورٹی: بیلٹ بکس کی نقل و حمل کے لیے سخت پروٹوکول تاکہ دھاندلی کے الزامات کا سدِباب کیا جا سکے۔
یہ اقدامات ایک ایسے وقت میں کیے جا رہے ہیں جب ملک میں سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔ اگرچہ کمیشن اسے ایک ضروری جدید کاری قرار دے رہا ہے، تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس عمل پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے، ان کا سوال ہے کہ کیا کمیشن قوانین بدلتے ہوئے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھ سکے گا؟
پاکستان میں انتخابی اصلاحات کی ماضی کی کوششیں اکثر سیاسی رسہ کشی کی نذر ہو جاتی رہی ہیں، جہاں بڑی جماعتوں نے اپنے مفادات کو ملکی نظام کی مضبوطی پر ترجیح دی۔ اس بار بھی اصل چیلنج پارلیمانی منظوری کا مرحلہ ہے۔
الیکشن کمیشن آئندہ ہفتے ان تجاویز کا ابتدائی مسودہ عوامی رائے کے لیے جاری کرے گا۔ اگر یہ اصلاحات منظور ہو گئیں تو یہ 2017 کے الیکشن ایکٹ کے بعد سب سے بڑی تبدیلی ہوگی۔ فی الحال، کمیشن وقت کی دوڑ میں ہے تاکہ انتخابی شیڈول کے اعلان سے قبل قانونی فریم ورک کو حتمی شکل دی جا سکے۔
