انگلینڈ کے ’چاک اسٹریمز‘ (چونے کے پتھر سے نکلنے والی ندیاں) ختم ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں موجود تقریباً 200 ایسی ندیوں میں سے 85 فیصد انگلینڈ میں بہتی ہیں، لیکن یہ شفاف اور نایاب آبی ذخائر اب سیوریج کے گندے پانی، کیمیائی مادوں اور پانی کے بے دریغ اخراج کی وجہ سے موت کے منہ میں ہیں۔
زمین کی گہرائیوں میں موجود چاک ایکویفرز (پتھریلی تہوں) سے چھن کر آنے والا یہ پانی قدرتی طور پر ٹھنڈا اور آکسیجن سے بھرپور ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ندیاں کبھی جنگلی براؤن ٹراؤٹ، اٹلانٹک سالمن اور نایاب آبی چوہوں (واٹر وول) کا مسکن تھیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ سال کے کئی مہینے یہ ندیاں سوکھی رہتی ہیں، جہاں کبھی پانی بہتا تھا وہاں اب صرف خشک پتھر اور مٹی نظر آتی ہے۔
اس تباہی کا بنیادی سبب انسانی کھپت کے لیے پانی کا بے تحاشا اخراج ہے۔ واٹر کمپنیاں دہائیوں پرانے لائسنسوں کی آڑ میں ان ایکویفرز سے روزانہ کروڑوں لیٹر پانی نکال رہی ہیں۔ جیسے جیسے زیرِ زمین پانی کی سطح نیچے جا رہی ہے، ان ندیوں کا قدرتی ذریعہِ حیات ختم ہوتا جا رہا ہے، اور یہ بہتے ہوئے شفاف پانی کی بجائے جوہڑوں کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔
دریاؤں کی بحالی کے لیے کام کرنے والے ماہر مارک لائیڈ کہتے ہیں، "ہم درحقیقت اپنے دریاؤں کو پی کر ختم کر رہے ہیں۔ برسوں پہلے دیے گئے لائسنس آج کی موسمیاتی حقیقتوں سے مکمل لاتعلق ہیں۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ ندیوں میں پانی کا بہاؤ بحال کرنے سے پہلے ہی انواع معدوم ہو رہی ہیں۔”
آلودگی نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ ماحولیاتی ایجنسی کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ انگلینڈ کی تقریباً ہر چاک اسٹریم کیمیائی معیار پر ناکام ہے۔ طوفانی بارشوں کے لیے بنائے گئے سیوریج اوور فلو سسٹم اب معمول کی بارشوں میں بھی ندیوں میں خام سیوریج بہا دیتے ہیں۔ اس اضافی غذائیت (نیوٹرینٹس) کی وجہ سے کائی (الجی) پیدا ہوتی ہے جو پانی میں موجود حیات کا دم گھونٹ دیتی ہے۔
حکومت نے حال ہی میں ان ندیوں کی بحالی کو ترجیح دینے کا وعدہ کیا ہے، لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومتی اقدامات کی رفتار انتہائی سست ہے۔ موجودہ قانون سازی کا زیادہ تر زور سیوریج اوور فلو کو روکنے پر ہے، مگر ماحولیاتی گروپوں کا مؤقف ہے کہ اس سے ندیوں میں پانی کی طبعی کمی کا بنیادی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔
ان ندیوں کی بقا کا انحصار اس بات پر ہے کہ کیا ریگولیٹرز واٹر کمپنیوں کو خشک موسم میں پانی نکالنے کی مقدار کم کرنے پر مجبور کر سکیں گے؟ اگر پانی کے انتظام کے نظام میں فوری اور بنیادی تبدیلیاں نہ لائی گئیں تو ان ندیوں کا منفرد ایکو سسٹم ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، اور یہ صرف سوکھے ہوئے گڑھوں کی صورت باقی رہ جائیں گی۔
فی الحال پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے اور ان ندیوں کے لیے وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔
