نیپال اور چین کی سرحد کے قریب مون سون کی شدید بارشوں نے تباہی مچا دی ہے۔ پہاڑی علاقوں میں آنے والے سیلاب اور تودے گرنے کے واقعات میں اب تک تقریباً 1000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں اب بھی لاپتہ ہیں۔ امدادی ٹیمیں مٹی اور ملبے کے نیچے دبے دور دراز دیہاتوں تک پہنچنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔
یہ آفت منگل کی صبح سندھو پالچوک اور راسوا کے اونچے پہاڑی علاقوں میں پیش آئی۔ مسلسل تین روز سے جاری طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالے بپھر گئے، جس نے پوری کی پوری بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
مقامی رہائشی شیرپا نے بتایا، "پہلے جیٹ انجن جیسی گرج سنائی دی، اور پھر پہاڑ کا ایک بڑا حصہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔” وہ خود تو اونچے مقام پر پہنچ کر بچ گئے، لیکن ان کا گھر اور مال مویشی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔
مقامی انتظامیہ بے بس دکھائی دیتی ہے۔ ارنیکو ہائی وے، جو کھٹمنڈو کو چینی سرحد سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ ہے، جگہ جگہ سے ٹوٹ چکی ہے۔ پل بہہ جانے کے بعد زمینی رابطے منقطع ہیں۔ خراب موسم اور دھند کے باعث ہیلی کاپٹروں کی پروازیں بھی معطل ہیں، جس کی وجہ سے امدادی کارکنوں کو انتہائی خطرناک راستوں پر پیدل چلنا پڑ رہا ہے۔
لاپتہ افراد کی تعداد تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ ضلعی حکام کے مطابق کم از کم 2500 افراد کا کوئی سراغ نہیں مل رہا، تاہم پہاڑی علاقوں میں مواصلاتی نظام کی تباہی کے باعث اعداد و شمار کی تصدیق مشکل ہے۔ خدشہ ہے کہ ملبہ ہٹائے جانے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔
ماہرینِ ارضیات برسوں سے خبردار کر رہے تھے کہ اس خطے کی مٹی انتہائی کمزور ہے۔ ماہرِ ماحولیات ڈاکٹر ارجن کارکی کا کہنا ہے کہ "یہ صرف خراب موسم نہیں، بلکہ منصوبہ بندی کی ناکامی ہے۔ ہم نے بغیر نکاسی آب کے خطرناک زونز میں تعمیرات کیں، اور اب ہم اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔”
کچھ علاقوں میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے، لیکن اب توجہ تلاش و بچاؤ سے ہٹ کر بحالی کی جانب مرکوز ہو رہی ہے۔ ہزاروں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور کھلے آسمان تلے ٹھنڈی راتیں گزارنے پر مجبور ہیں۔ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر بین الاقوامی امداد کی اپیل کر دی ہے۔
پہاڑوں کی نچلی سطح پر موجود متاثرین کے خاندانوں کی امیدیں دم توڑ رہی ہیں۔ بارش تو تھم گئی ہے، لیکن اوپر والے دیہاتوں سے آنے والی خاموشی سب کچھ بیان کرنے کے لیے کافی ہے۔
