رحیم یار خان — دریائے سندھ کے کچے کے علاقے میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے بعد ایک ہائی پروفائل ڈاکو مارا گیا۔
پولیس کے مطابق یہ کارروائی منگل کی صبح اس وقت عمل میں آئی جب ایک خفیہ اطلاع پر پولیس کی ٹیم نے دریائی پٹی کے قریب چھاپہ مارا۔ فائرنگ کا تبادلہ تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا جس کے نتیجے میں مطلوب ملزم ہلاک ہو گیا۔
پولیس حکام نے ہلاک ہونے والے ڈاکو کی شناخت ‘ذوالفقار عرف ذلفی شر’ کے نام سے کی ہے۔ ترجمان پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا جن میں اغوا برائے تاوان، قتل اور شاہراہوں پر ڈکیتی کی وارداتیں شامل ہیں۔
"ہمیں کافی عرصے سے اس کی تلاش تھی،” آپریشن میں شامل ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا۔ "جیسے ہی اسے ہماری موجودگی کا احساس ہوا، اس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں وہ اپنے ہی ساتھیوں کی طرح انجام کو پہنچا، جبکہ اس کے قبضے سے جدید اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔”
کچے کا یہ علاقہ طویل عرصے سے جرائم پیشہ گروہوں کا گڑھ بنا ہوا ہے۔ یہاں کی دشوار گزار زمین اور گھنے جنگلات کو استعمال کرتے ہوئے ڈاکو نہ صرف وارداتیں کرتے ہیں بلکہ پولیس کی پہنچ سے دور رہنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں۔ ذلفی شر کا گروہ پنجاب اور سندھ کی سرحدوں پر سرگرم تھا اور اس پر ایک سال قبل دو مقامی تاجروں کے اغوا کا مرکزی الزام بھی تھا۔
اس ہلاکت کو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ صرف ایک ڈاکو کے خاتمے سے امن قائم نہیں ہو گا۔ کچے کے علاقوں میں اکثر ایک گروہ کے خاتمے کے بعد دوسرا گروہ خلا کو پر کر لیتا ہے، جس سے مقامی تاجروں اور زمینداروں کی مشکلات برقرار رہتی ہیں۔
پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ علاقے میں گشت بڑھا دی گئی ہے تاکہ باقی ماندہ گروہ کے ارکان کی جانب سے کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کو روکا جا سکے۔
فی الحال، کچے کا وسیع علاقہ سخت سیکیورٹی حصار میں ہے، جہاں پولیس کی جانب سے دیگر فعال جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف بھی مزید چھاپوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
