ٹوکیو — منگل کی رات مشرقی جاپان کے ساحلی علاقے فوکوشیما میں 5.9 شدت کے زلزلے نے شدید جھٹکے دیے، جس کے نتیجے میں کم از کم 37 افراد زخمی ہو گئے۔
زلزلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بج کر 29 منٹ پر آیا، جس کا مرکز زمین سے 50 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ جاپان کی موسمیاتی ایجنسی نے سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی، تاہم زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ گھروں میں سامان گر گیا اور ہزاروں گھروں کی بجلی خودکار نظام کے تحت منقطع ہو گئی۔
زخمی ہونے والے زیادہ تر افراد کا تعلق فوکوشیما اور میاگی پریفیکچر سے ہے، جنہیں گرنے والی اشیاء سے چوٹیں آئیں۔ مقامی فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق زخمیوں میں سے اکثر کو ابتدائی طبی امداد کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے، لیکن تین افراد اب بھی ہڈی ٹوٹنے کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔
سوما شہر کے رہائشی کینجی ساتو نے بتایا کہ "اس بار جھٹکے بالکل مختلف محسوس ہوئے۔ پہلے ایک تیز دھچکا لگا، پھر ایک طویل اور مسلسل لہر آئی جس کا تھمنے کا نام نہیں تھا۔”
زلزلے کے فوراً بعد ٹرین آپریٹرز نے بلٹ ٹرین (شنکانسن) کی سروس معطل کر دی۔ تکنیکی ٹیموں نے بدھ کی صبح پٹریوں کا معائنہ کیا تاکہ کسی بھی ممکنہ دراڑ کا پتہ لگایا جا سکے، جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ایٹمی ریگولیٹرز نے فوری طور پر عوام کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کی۔ ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) اور مقامی حکام نے تصدیق کی کہ فوکوشیما دائیچی یا دائی نی ایٹمی پلانٹس میں کوئی غیر معمولی صورتحال نہیں پائی گئی۔ تمام مانیٹرنگ اسٹیشنز پر تابکاری کی سطح معمول کے مطابق رہی۔
ماہرینِ ارضیات کے مطابق یہ زلزلہ 2011 کے تباہ کن زلزلے کے بعد ٹیکٹونک پلیٹوں میں ہونے والی ایڈجسٹمنٹ کا نتیجہ ہے۔
مشرقی جاپان کے رہائشیوں کے لیے یہ زلزلہ ایک بار پھر ان کی جغرافیائی حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ اگرچہ وہاں کا انفراسٹرکچر مضبوط ہے، لیکن آدھی رات کو پیش آنے والے اس ہنگامی واقعے کا نفسیاتی دباؤ اب بھی برقرار ہے۔
حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران اسی شدت کے آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
