میر رضا کے والدین نے اپنے بیٹے کی موت کو خودکشی قرار دینے کے پولیس کے ابتدائی مؤقف کو مسترد کر دیا ہے۔ خاندان کا دعویٰ ہے کہ تفتیشی افسران حقائق کو چھپا رہے ہیں اور کیس کو جلد نمٹانے کے لیے اسے خودکشی کا رنگ دے رہے ہیں۔
منگل کے روز عدالت میں دائر کی گئی درخواست میں خاندان نے مؤقف اپنایا کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے میں سنگین غفلت برتی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے قتل کے واضح اشاروں کو نظر انداز کیا اور فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر کیس کو بند کرنے کی جلدی کی۔
خاندان کے وکیل نے پریس کانفرنس کے دوران کہا، "پولیس نے ڈیجیٹل شواہد تک کا جائزہ نہیں لیا۔ وہ اس کیس کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ہم حقیقت تک پہنچیں گے۔”
یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بھی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مقامی تھانے میں مشکوک اموات کو خودکشی قرار دے کر فائلیں بند کرنا ایک پرانی روایت ہے۔ اس طرح کی حکمت عملی کا مقصد تفتیشی عمل کی طوالت اور وسائل کے ضیاع سے بچنا ہوتا ہے۔
دوسری جانب، محکمہ پولیس نے غفلت کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ایک ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حتمی ٹوکسیکولوجی رپورٹ کا انتظار ہے، جس کے بعد ہی کیس کی نوعیت کے بارے میں حتمی رائے قائم کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تفتیش "معیاری طریقہ کار” کے مطابق جاری ہے اور عوام کو قیاس آرائیوں سے گریز کرنا چاہیے۔
والدین کے لیے تفتیش میں یہ تاخیر ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے ملاقات کر کے مطالبہ کیا ہے کہ کیس کی ازسرنو تحقیقات کے لیے ایک آزاد ٹیم تشکیل دی جائے۔
فی الحال یہ کیس ایک انتظامی تعطل کا شکار ہے۔ اگر نگران بورڈ نے خاندان کے مطالبات کو تسلیم کر لیا تو موجودہ تفتیشی عمل کو کالعدم قرار دے دیا جائے گا۔ بصورت دیگر، پولیس رپورٹ کی بنیاد پر کیس کو بند کر دیا جائے گا، جس سے انصاف کی امیدیں دم توڑ سکتی ہیں۔
