غزہ شہر میں چھ سالہ ہند رجب اور انہیں بچانے کے لیے جانے والی ایمبولینس کے عملے کی ہلاکت کے معاملے پر اسرائیلی فوج نے باقاعدہ مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ فیصلہ عالمی دباؤ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے مسلسل مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے، جس نے اس المناک واقعے کو غزہ جنگ میں شہریوں کی ہلاکتوں کی ایک علامت بنا دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ایڈووکیٹ جنرل نے اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ تفتیش کار اب یہ تعین کریں گے کہ آیا ہلالِ احمر کی ایمبولینس پر ٹینک کا گولہ چلنا ایک عسکری غلطی تھی یا پھر جنگی قوانین کی کھلی خلاف ورزی۔
ہند رجب کی والدہ، وسام حمادہ، گزشتہ کئی ماہ سے انصاف کے لیے آواز اٹھا رہی ہیں۔ یہ واقعہ فروری میں پیش آیا تھا جب ہند رجب اپنی گاڑی میں خاندان کے دیگر افراد کی لاشوں کے درمیان تین گھنٹے تک پھنسی رہی اور مدد کے لیے فون پر فریاد کرتی رہی۔ بالآخر، جب ہلالِ احمر کے پیرا میڈیکس، یوسف الزینو اور احمد المدهون، انہیں بچانے کے لیے پہنچے تو ان کی ایمبولینس کو بھی نشانہ بنا دیا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ اس ریسکیو مشن سے قبل ہلالِ احمر نے اسرائیلی فوج سے راستے کی کلیئرنس لی تھی۔ اس کے باوجود، ایمبولینس کو ہند رجب کی گاڑی سے چند میٹر کے فاصلے پر تباہ کر دیا گیا۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں اس تحقیقات پر شکوک و شبہات کا اظہار کر رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج کا اپنا داخلی احتسابی نظام اکثر طویل عرصے تک جاری رہتا ہے اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ افسران کو سزا ملنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ماضی میں بھی شہریوں کی ہلاکتوں کے کئی واقعات کی تحقیقات صرف داخلی تادیبی کارروائیوں تک محدود رہی ہیں۔
یہ تحقیقات ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب عالمی عدالتِ انصاف اور انٹرنیشنل کریمنل کورٹ غزہ میں طبی انفراسٹرکچر کے تحفظ اور جنگی جرائم کے الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اگرچہ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ وہ "غیر معمولی واقعات” کی تحقیقات کے لیے پرعزم ہے، لیکن ہند رجب کیس کے حقائق انتہائی تلخ ہیں۔ ایمبولینس واضح طور پر شناخت شدہ تھی اور اس کی نقل و حرکت کے لیے پیشگی اجازت لی گئی تھی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ تحقیقات فوج کے اندر موجود استثنیٰ کے چکر کو توڑ پائیں گی یا یہ بھی محض رسمی کارروائی ثابت ہوگی۔
