پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی اتحاد کے اہم بل کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اسلام آباد میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران ہونے والی خفیہ ملاقاتوں کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں، جس سے بل کی منظوری کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔
اس سیاسی پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ حکومت قومی اسمبلی میں کسی بھی ممکنہ شکست سے بچ جائے گی۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے یہ حمایت بلا معاوضہ نہیں؛ ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبائی ترقیاتی فنڈز اور بل کی بعض شقوں میں ترامیم کے عوض یہ ڈیل طے کی گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے ایوان کو فعال رکھنے اور قانون سازی کا عمل جاری رکھنے کے لیے ایک ورکنگ انڈرسٹینڈنگ قائم کی ہے۔” انہوں نے اس بات کا جواب نہیں دیا کہ کن مخصوص شقوں پر حکومت نے ان کے تحفظات کو تسلیم کیا ہے۔
حکومت کو اس بل پر ابتدائی طور پر مشکلات کا سامنا تھا، کیونکہ چھوٹی اتحادی جماعتوں اور کچھ آزاد ارکان نے اس کے معاشی اثرات پر سوال اٹھائے تھے۔ اب پیپلز پارٹی کے ساتھ مل جانے کے بعد حکومت کے پاس ایوان میں واضح اکثریت موجود ہے، جس سے وہ اپوزیشن کی جانب سے متوقع رکاوٹوں کو آسانی سے عبور کر سکے گی۔
دوسری جانب اپوزیشن نے اس اتحاد کو "پس پردہ ڈیل” قرار دیتے ہوئے ایوان میں احتجاج کا عندیہ دیا ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ مالیاتی پالیسی سے متعلق یہ بل عوامی اہمیت کا حامل ہے، جس پر جلد بازی کے بجائے تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔
حکومتی حکمت عملی کے ماہرین اب کافی پر اعتماد ہیں۔ اگر پارلیمانی کمیٹی کے جائزے میں کوئی نیا تنازع کھڑا نہ ہوا تو حکومت کل ہی یہ بل منظوری کے لیے پیش کر سکتی ہے۔
یہ پیش رفت ثابت کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ حکومت کے لیے ایک بار پھر "اسٹیبلائزر” کا کردار ادا کر رہی ہے۔ تاہم، یہ اتحاد اگلے ماہ آنے والے بجٹ سیشن تک برقرار رہتا ہے یا نہیں، یہ وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں ملکی سیاست کا رخ متعین کرے گا۔
