ڈھاکہ — بنگلہ دیشی حکام نے نیشنل سکیورٹی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ میجر جنرل (ر) ضیاء الحق کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان کی گرفتاری ایک ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب عبوری حکومت سابقہ دورِ حکومت میں ہونے والی ماورائے عدالت ہلاکتوں اور جبری گمشدگیوں کے خلاف قانونی کارروائیوں کا آغاز کر رہی ہے۔
ضیاء الحق کو اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ ملک سے فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ گرفتاری سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے استعفے اور ملک چھوڑنے کے بعد دائر کیے جانے والے متعدد مقدمات کا حصہ ہے۔
مقدمے کا مرکز 2013 کا ’شاپلا چوک‘ آپریشن ہے، جہاں سکیورٹی فورسز نے ہیفازٹ اسلام کے ہزاروں مظاہرین کو طاقت کے زور پر منتشر کیا تھا۔ اس وقت کی حکومت نے ہلاکتوں کی تعداد کو بہت کم ظاہر کیا تھا، تاہم انسانی حقوق کی تنظیمیں اور اپوزیشن جماعتیں اسے ایک منصوبہ بند قتلِ عام قرار دیتی رہی ہیں۔
ضیاء الحق ایک دہائی سے زائد عرصے تک بنگلہ دیشی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا اہم ترین اور طاقتور کردار سمجھے جاتے تھے۔ انٹیلی جنس کے اعلیٰ عہدوں اور ریپڈ ایکشن بٹالین میں خدمات انجام دینے کے دوران، وہ حکومت کی داخلی سکیورٹی پالیسیوں کے مرکزی منصوبہ سازوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی گرفتاری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شیخ حسینہ کے دور کے خاتمے کے بعد ملک میں قانونی اور سیاسی منظرنامہ تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
عبوری حکومت کے ایک قانونی مشیر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم انسانی حقوق کی پامالیوں کے ہر واقعے کی دستاویزات اکٹھی کر رہے ہیں۔ جن لوگوں نے بھی طاقت کا غلط استعمال کیا، انہیں اب جوابدہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔” حکومت اس وقت پولیس اور فوجی اہلکاروں کے خلاف موصول ہونے والی ہزاروں شکایات کا جائزہ لے رہی ہے۔
ماضی میں حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ 2013 کے کریک ڈاؤن نے ہی ریاست کو اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے طاقت کے بے جا استعمال کا عادی بنایا تھا۔ متاثرہ خاندان ایک دہائی سے انصاف کے منتظر تھے، لیکن اب تک انہیں صرف سرکاری خاموشی ہی ملی تھی۔
یہ گرفتاری کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل سابق وزراء، پولیس چیفس اور اعلیٰ بیوروکریٹس کے خلاف بھی قتل کے مقدمات درج کیے جا چکے ہیں۔ نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت کو اداروں کی ساکھ بحال کرنے اور ایک نازک سیاسی منتقلی کے عمل کو مکمل کرنے جیسے مشکل چیلنجز درپیش ہیں۔
اب یہ سوال اہم ہے کہ کیا یہ گرفتاریاں کامیاب عدالتی مقدمات تک پہنچ پائیں گی یا محض علامتی کارروائی ثابت ہوں گی۔ تاہم، ایک اعلیٰ انٹیلی جنس افسر کی حراست نے سکیورٹی اداروں کو یہ واضح پیغام دے دیا ہے کہ مبینہ استثنیٰ کا دور ختم ہو چکا ہے۔
