حکومتِ پاکستان نے 20 اگست 2026 سے پیٹرول کی قیمت میں 8.50 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 262.15 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ گراوٹ کے بعد یہ ریلیف عوام تک پہنچایا گیا ہے۔
ملک میں جاری مہنگائی کے دور میں یہ کمی عام آدمی کے لیے ایک معمولی لیکن خوش آئند تبدیلی ہے۔ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک کے شعبوں سے وابستہ افراد کے لیے یہ قیمتیں اخراجات میں کمی کا باعث بن سکتی ہیں، تاہم خدشہ یہ ہے کہ اس کا براہِ راست فائدہ عام مسافر تک نہیں پہنچے گا۔
بدھ کی صبح سے ہی ملک بھر کے پیٹرول پمپس پر نئی قیمتوں کا اطلاق ہو چکا ہے۔ اگرچہ پیٹرول سستا ہوا ہے، لیکن پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کسی کمی کا اعلان نہیں کیا گیا، جس سے روزانہ سفر کرنے والے شہری تاحال مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے حکام کے مطابق، نئی قیمتوں کا تعین گزشتہ 15 دنوں کے دوران عالمی منڈی میں خام تیل کی اوسط قیمتوں اور حکومتی ٹیکس مارجن کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ معاہدوں کے تحت پیٹرولیم لیوی کے ہدف کو پورا کرنے کی پابند ہے، جس کی وجہ سے قیمتوں میں بڑی کمی کی گنجائش محدود رہتی ہے۔
توانائی کے امور کے تجزیہ کار طارق ملک کا کہنا ہے کہ "یہ ریلیف وقتی ہے، لیکن سمندر میں قطرے کے مترادف ہے۔ جب تک روپے کی قدر میں استحکام اور ٹیکسوں کے ڈھانچے میں اصلاحات نہیں ہوتیں، عالمی منڈی میں معمولی کمی کا اثر عام آدمی کی زندگی پر گہرا نہیں پڑے گا۔”
حکومت کے لیے اب اصل چیلنج یہ ہے کہ آیا پیٹرول کی قیمت میں ہونے والی یہ کمی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی یا یہ ریلیف صرف پیٹرول پمپ تک ہی محدود رہے گا۔
