جماعت اسلامی نے 12 ربیع الاول کے فوراً بعد ملک گیر "پہیہ جام” ہڑتال کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کی قیادت میں پارٹی نے حکومت کی موجودہ معاشی پالیسیوں، خاص طور پر بجلی کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں کے بوجھ کے خلاف اس احتجاج کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا ہے۔
حکمت عملی واضح ہے۔ جماعت اسلامی نے مذہبی تقدس کے پیش نظر ربیع الاول کے جلوسوں میں خلل سے بچنے کے لیے ہڑتال کی تاریخ کو عید میلاد النبی کے بعد رکھا ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوامی ہمدردی برقرار رکھنا اور معمولات زندگی بحال ہوتے ہی حکومت پر دباؤ کو دوچند کرنا ہے۔
حکمران اتحاد کے لیے یہ صرف ایک سیاسی احتجاج نہیں، بلکہ ایک سنگین چیلنج ہے۔ راولپنڈی میں طویل دھرنے کے دوران جماعت اسلامی نے جس استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے حکومتی ایوانوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ مطالبات وہی پرانے اور سخت ہیں: بجلی کی قیمتوں میں کمی، آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں کی منسوخی، اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنا۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے اپنے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "اب مذاکرات کی میز پر وقت ضائع کرنے کے بجائے عملی ریلیف چاہیے”۔ ان کا اشارہ صاف ہے کہ حکومت اگر فوری اور ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، تو سڑکیں ہی واحد راستہ ہیں۔
ایک "پہیہ جام” ہڑتال کا مطلب ٹرانسپورٹ کے نظام اور کاروباری مراکز کا مکمل ٹھپ ہو جانا ہے۔ اگر یہ ہڑتال کامیاب ہوتی ہے، تو کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں سپلائی چین رک جائے گی، جس سے حکومت کے لیے اپنی معاشی پالیسیوں کا دفاع کرنا ناممکن ہو جائے گا۔
حکومت ایک مشکل دو راہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف آئی ایم ایف کی سخت شرائط ہیں جن میں سبسیڈیز کا خاتمہ اور ٹیکس وصولی میں اضافہ شامل ہے، اور دوسری طرف عوام کا بڑھتا ہوا غیظ و غضب۔ اگر حکومت جماعت اسلامی کے مطالبات مانتی ہے تو آئی ایم ایف سے تعلقات خراب ہونے کا خدشہ ہے، اور اگر نظر انداز کرتی ہے تو سڑکوں پر عوامی احتجاج کا سیلاب اسے بہا لے جانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے۔
اب تک حکومتی وزراء اس احتجاج کو محض سیاسی مفادات کا کھیل قرار دے کر مسترد کر رہے ہیں۔ تاہم، پس پردہ سیکیورٹی اداروں کو بڑے شہروں کے داخلی راستوں پر ممکنہ کشیدگی سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے۔
آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ کیا جماعت اسلامی صرف اپنے کارکنوں کو سڑکوں پر لانے میں کامیاب ہوتی ہے یا عام شہری بھی اس ہڑتال کو اپنا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ حکومت کے پاس اب وقت کم ہے؛ یا تو اسے مفاہمت کی راہ نکالنی ہوگی یا پھر طاقت کا استعمال کر کے شہروں کو کھلا رکھنے کی کوشش کرنی ہوگی۔ بہرصورت، اسلام آباد کا سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر ہے۔
