اسلام آباد — پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے سم کارڈز کی فروخت اور اجرا کے عمل کو مزید سخت کرتے ہوئے بائیو میٹرک تصدیق کا نیا نظام نافذ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سمز کی غیر قانونی فروخت اور شناخت کی چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکنا ہے۔
اب نئی سم حاصل کرنے یا پرانی سم تبدیل کروانے کے لیے صرف انگوٹھے کا نشان کافی نہیں ہوگا۔ پی ٹی اے نے ‘ملٹی فنگر بائیو میٹرک ویریفکیشن’ لازمی قرار دے دی ہے، جس کے تحت سسٹم خودکار طریقے سے کسی بھی انگلی کا نشان طلب کرے گا۔ یہ تبدیلی ان فراڈز کو ختم کرنے کے لیے کی گئی ہے جہاں دکاندار سلیکون کے جعلی انگوٹھے استعمال کر کے ہزاروں سمز ایکٹیویٹ کر لیتے تھے۔
نئے ضوابط کے مطابق، تمام فرنچائزز اور ریٹیلرز کے لیے ‘لائیو فنگر ڈیٹیکشن’ ڈیوائسز کا استعمال لازمی ہے۔ یہ مشینیں انسانی انگلی اور مصنوعی مواد کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پی ٹی اے نے واضح کیا ہے کہ جو دکاندار ان حفاظتی اقدامات کو نظر انداز کرے گا، اس کا لائسنس منسوخ اور بھاری جرمانے عائد کیے جائیں گے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ماضی میں پکڑی جانے والی ہزاروں غیر قانونی سمز کا تعلق شناخت کی چوری اور مالی فراڈ سے تھا۔ ملٹی فنگر تصدیق کے بعد ایک بار چوری شدہ بائیو میٹرک ڈیٹا کا استعمال کر کے دوبارہ سم نکلوانا ناممکن ہو جائے گا۔
صارفین کے لیے اب فرنچائز پر ذاتی موجودگی ضروری ہے۔ شناختی کارڈ ہولڈر کے بغیر کوئی بھی شخص سم حاصل نہیں کر سکے گا اور کسی دوسرے کے کوائف پر سم نکلوانے کا عمل اب بند کر دیا گیا ہے۔ ایک شناختی کارڈ پر زیادہ سے زیادہ پانچ سمز کی حد برقرار ہے، تاہم اب اس کی تصدیق کا عمل پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور محفوظ بنا دیا گیا ہے۔
ملک بھر کی ٹیلی کام کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے تمام آؤٹ لیٹس کو فوری طور پر نئی ڈیوائسز سے لیس کریں۔ پی ٹی اے کے ایک افسر نے بتایا کہ "ہمارا مقصد واضح ہے: ایک شخص، ایک تصدیق شدہ شناخت۔ بغیر تصدیق کے سمز کا بازار اب بند ہو چکا ہے۔”
اس حکومتی فیصلے کے بعد اب سمز کی بلک ایکٹیویشن کا راستہ بند ہو گیا ہے، جس سے نہ صرف قومی سلامتی کے خدشات کم ہوں گے بلکہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے لیے موبائل نیٹ ورک کا غلط استعمال بھی مشکل ہو جائے گا۔
