وزارتِ داخلہ نے آزاد جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات کے لیے 16,800 سیکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی کو حتمی شکل دے دی ہے۔ پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور پر مشتمل یہ دستے پولنگ کے عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام انتخابی حلقوں میں تعینات کیے جائیں گے۔
یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب خطے میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ چکا ہے۔ سیکیورٹی پلان کو حتمی شکل دے کر وزارت کا مقصد ان مقامی جھڑپوں کو روکنا ہے جو ماضی کے انتخابی عمل کو متاثر کرتی رہی ہیں۔
منگل کی شب حکام نے تعیناتی کے منصوبے کی تصدیق کی۔ یہ 16,800 اہلکار ہر پولنگ اسٹیشن کی "حساسیت” کے مطابق تقسیم کیے جائیں گے۔ "انتہائی حساس” قرار دیے گئے اسٹیشنوں پر پاک فوج کے دستے کوئیک رسپانس فورس کے طور پر موجود ہوں گے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
آزاد کشمیر الیکشن کمیشن نے گزشتہ ماہ سیکیورٹی کی بھاری نفری تعینات کرنے کی درخواست کی تھی، جس کی وجہ کئی اضلاع میں سیاسی کارکنوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی تھی۔ وزارتِ داخلہ کا فوری ردعمل ریاستی رٹ برقرار رکھنے کی کوشش ہے، اگرچہ ناقدین کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کا اتنا بڑا دائرہ کار ووٹرز میں خوف و ہراس پھیلا کر ٹرن آؤٹ کو متاثر کر سکتا ہے۔
وزارتِ داخلہ کے ایک اعلیٰ افسر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "مقصد واضح ہے: ہر شہری کو بغیر کسی خوف کے اپنا ووٹ ڈالنے کا حق ملے۔” تاہم، انہوں نے اس آپریشن کے لیے مختص بجٹ یا فوج کی نقل و حرکت کی لاجسٹکس پر تفصیلات دینے سے گریز کیا۔
یہ تعیناتی محض ہجوم کو کنٹرول کرنے کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ خطے کے دشوار گزار اور پہاڑی علاقوں میں ہزاروں افراد کو پہنچانے کا ایک بڑا لاجسٹک چیلنج ہے۔ ماضی کے انتخابات میں دور دراز علاقوں میں مواصلاتی نظام کی بندش سیکیورٹی منصوبہ سازوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ رہی ہے۔
پولنگ کا دن یہ ثابت کرے گا کہ زمین پر موجود یہ ہزاروں اہلکار انتخابی عمل کو پرامن رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا سیکیورٹی کی بھاری نفری خود تنازع کا باعث بنتی ہے۔ فی الحال وزارت کا مؤقف ہے کہ منصوبہ مکمل ہے اور دستے اپنی پوزیشن سنبھال رہے ہیں۔
