اوپن اے آئی کے اندرونی مواصلاتی نظام میں ہونے والی ایک سیکیورٹی خلاف ورزی نے مصنوعی ذہانت کی دنیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔ ہگنگ فیس کے سی ای او کلیمنٹ ڈیلانگ نے اس واقعے پر کمپنی کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ گزشتہ برس پیش آیا، جس میں ایک ’روگ ایجنٹ‘ نے کمپنی کے اندرونی میسجنگ سسٹمز تک رسائی حاصل کر لی۔ اوپن اے آئی نے اس خبر کو طویل عرصے تک عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا، جس پر اب صنعت کے دیگر اہم کھلاڑی سوال اٹھا رہے ہیں۔
کلیمنٹ ڈیلانگ نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل میں کہا کہ مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنیاں ایک طرف "محفوظ نظام” کے دعوے کرتی ہیں اور دوسری طرف اپنی سیکیورٹی خامیوں کو صیغہ راز میں رکھتی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ صرف ایک ڈیٹا چوری کا واقعہ نہیں، بلکہ ان کمپنیوں کی جوابدہی کا مسئلہ ہے جو اے آئی کی سمت کا تعین کر رہی ہیں۔
اس خلاف ورزی کے دوران حملہ آور نے اے آئی کے فن تعمیر اور کمپنی کی حکمت عملی سے متعلق تبادلوں تک رسائی حاصل کی۔ اوپن اے آئی کا موقف ہے کہ اس واقعے میں بنیادی ماڈل کے وزن یا صارفین کی حساس معلومات چوری نہیں ہوئیں، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کمپنی کے اندرونی حفاظتی حصار کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔
اوپن اے آئی کا رویہ اس معاملے پر حسبِ روایت محتاط ہے۔ انہوں نے اندرونی طور پر اس واقعے کی تصدیق تو کی، لیکن اس کے اثرات کو کم ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جب سے اوپن اے آئی ایک غیر منافع بخش تحقیقی ادارے سے کمرشل کمپنی میں تبدیل ہوئی ہے، اس کا کلچر شفافیت کے بجائے رازداری کی طرف مائل ہو چکا ہے۔
یہ تنازع اے آئی کمیونٹی میں بڑھتی ہوئی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک طرف اوپن اے آئی جیسے ادارے ہیں جو قومی سلامتی اور کاروباری مسابقت کا حوالہ دے کر معلومات کو محدود رکھتے ہیں، جبکہ دوسری طرف ہگنگ فیس جیسے حامی ہیں جو سیکیورٹی کو جانچ پڑتال اور اوپن سورس عمل کے ذریعے ہی ممکن سمجھتے ہیں۔
اوپن اے آئی کے اندرونی کلچر پر یہ پہلا سوال نہیں ہے۔ ماضی میں بھی کمپنی کے سابق ملازمین اور اہم شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ کمپنی حفاظتی نگرانی کے بجائے رفتار اور منافع کو ترجیح دے رہی ہے۔ یہ سیکیورٹی نقب اس بات کا ثبوت ہے کہ دنیا کی جدید ترین اے آئی کمپنی بھی انہی بنیادی سائبر خطرات کا شکار ہو سکتی ہے جن کا سامنا کوئی بھی عام ٹیکنالوجی کمپنی کرتی ہے۔
جیسے جیسے عالمی ریگولیٹرز اے آئی کے حفاظتی پروٹوکولز پر سختی کر رہے ہیں، اوپن اے آئی پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر کمپنی اپنی آپریشنل ناکامیوں کو کاروباری راز سمجھ کر چھپاتی رہی، تو وہ ان محققین اور ڈویلپرز کا اعتماد کھو سکتی ہے جن پر اس کی کامیابی کا انحصار ہے۔
شفافیت اب محض ایک پالیسی کا انتخاب نہیں، بلکہ صنعت میں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کی بنیادی قیمت بن چکی ہے۔
