ایران میں جاری جنگ اور غیر یقینی حالات کے درمیان ایک نایاب اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے: انتہائی خطرے سے دوچار ایشیائی چیتا ایک بار پھر دیکھا گیا ہے، اور ماہرین اسے امید کی ایک چھوٹی مگر اہم علامت قرار دے رہے ہیں۔ حالیہ تحفظی رپورٹوں کے مطابق جنگ سے پہلے شمالی ایران میں ایک مادہ ایشیائی چیتا اپنے پانچ بچوں کے ساتھ دیکھی گئی، جو اس نایاب نسل کے لیے غیر معمولی پیش رفت مانی جا رہی ہے۔
ایشیائی چیتا دنیا کی نایاب ترین بڑی بلیوں میں شمار ہوتا ہے، اور اب اس کی آخری جنگلی آبادی صرف ایران میں باقی رہ گئی ہے۔ تازہ اندازوں کے مطابق اس کی تعداد انتہائی کم رہ گئی ہے، بعض ماہرین اسے تیس سے بھی کم بتاتے ہیں، جبکہ کچھ اندازے اسے تیس سے چالیس کے درمیان رکھتے ہیں۔ تعداد جو بھی ہو، حقیقت یہی ہے کہ یہ نسل معدومی کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہے۔
اسی لیے پانچ بچوں کے ساتھ مادہ چیتے کی موجودگی معمولی واقعہ نہیں۔ ایسے وقت میں جب ہر نئے بچے کی بقا پوری نسل کے مستقبل سے جڑی ہوئی ہو، اس نوعیت کی sighting صرف ایک جنگلی حیات کی خبر نہیں رہتی بلکہ بقا کی علامت بن جاتی ہے۔ تحفظِ جنگلی حیات سے وابستہ حلقوں کے نزدیک یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام خطرات کے باوجود ایران میں ایشیائی چیتا اب بھی افزائشِ نسل کر رہا ہے۔
لیکن اس امید کے ساتھ ایک تلخ حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے۔ حالیہ جنگ نے ایران میں جنگلی حیات کے تحفظ کی کوششوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق نگرانی، گشت، کیمرا ٹریپنگ، محفوظ علاقوں تک رسائی اور سائنسی مشاہدے کا نظام متاثر ہوا ہے۔ ایک ایسی نسل کے لیے جس کی تعداد پہلے ہی نہایت کم ہو، اس طرح کی رکاوٹیں محض عارضی انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ وجودی خطرہ بن سکتی ہیں۔
ایشیائی چیتا صرف جنگ کی وجہ سے خطرے میں نہیں آیا۔ اس سے پہلے بھی اس نسل کو مسکن کی ٹوٹ پھوٹ، شکار کی کمی، سڑکوں پر ہلاکتوں، انسانی دباؤ اور کم جینیاتی تنوع جیسے مسائل کا سامنا رہا ہے۔ سائنسی اور تحفظی دستاویزات بتاتی ہیں کہ ایران کے محفوظ علاقوں، خاص طور پر توران بایوسفیر ریزرو، میں اس نسل کی بقا کا انحصار شکار کی دستیابی، محفوظ گزرگاہوں اور مسلسل نگرانی پر ہے۔
توران بایوسفیر ریزرو کو اس نسل کا سب سے اہم مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مادہ چیتے اب بھی وہاں یا اس جیسے محفوظ علاقوں میں بچوں کو جنم دے رہی ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ نسل ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ مگر یہ امید نہایت نازک ہے۔ اتنی چھوٹی آبادی میں ایک سڑک حادثہ، ایک ناکام افزائشی موسم یا نگرانی کے نظام میں لمبی تعطل بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران میں ایشیائی چیتے کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی اور مقامی سطح پر برسوں سے کوششیں جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے تعاون سے مختلف منصوبے بھی چلتے رہے ہیں، مگر جغرافیائی سیاسی دباؤ، فنڈنگ کی کمی اور انتظامی مشکلات نے اس جدوجہد کو مسلسل پیچیدہ بنائے رکھا۔ موجودہ جنگ نے اس پہلے سے نازک تحفظی نظام پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔
یوں دیکھا جائے تو ایران میں چیتے کی یہ نئی جھلک ایک خوش کن خبر ضرور ہے، مگر یہ مکمل اطمینان کی وجہ نہیں۔ یہ امید کی ایک باریک لکیر ہے — ایسی امید جو بتاتی ہے کہ نسل ابھی زندہ ہے، مگر اس کی بقا اب بھی شدید خطرے میں ہے۔ جنگ کے شور میں یہ خاموش سی خبر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات قدرتی دنیا کی سب سے بڑی لڑائیاں محاذ پر نہیں، بقا کے کنارے پر لڑی جا رہی ہوتی ہیں۔
