پاکستان میں منگل، 28 اپریل 2026 کو چاندی کے نرخ مختلف مقامی ذرائع میں کچھ فرق کے ساتھ رپورٹ ہوئے، مگر مجموعی تصویر ایک جیسی رہی: چاندی 8 ہزار روپے فی تولہ کی سطح سے نیچے رہی اور مارکیٹ میں بڑی غیرمعمولی ہلچل نظر نہیں آئی۔ ایک مقامی ریٹ ٹریکر کے مطابق چاندی 7,932 روپے فی تولہ، 6,800.5 روپے فی 10 گرام اور 680.05 روپے فی گرام کے قریب درج کی گئی۔
دوسری طرف، ایک الگ مارکیٹ رپورٹ میں چاندی کی قیمت اس سے کچھ کم بتائی گئی۔ اس رپورٹ کے مطابق آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے حوالہ سے چاندی 7,811 روپے فی تولہ اور 6,696 روپے فی 10 گرام رہی، جبکہ روزانہ بنیاد پر کمی بھی رپورٹ کی گئی۔ اسی رپورٹ میں عالمی مارکیٹ میں چاندی کی قیمت 73.27 ڈالر فی اونس بتائی گئی، جو مقامی کمی کے پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
اس فرق کا مطلب یہ نہیں کہ مارکیٹ میں دو الگ رجحانات چل رہے تھے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ فرق اپڈیٹ ٹائم، مقامی صرافہ مارکیٹ کے مارجن، اور سورس کے طریقۂ اشاعت کی وجہ سے آیا ہو۔ ایک اور مقامی ریٹ صفحے میں اسی تاریخ کے لیے 7,903 روپے فی تولہ اور متبادل اپڈیٹ میں 7,830 روپے فی تولہ بھی دکھایا گیا، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دن بھر نرخوں میں معمولی تبدیلی یا سورس کے لحاظ سے فرق موجود تھا۔
عملاً دیکھا جائے تو آج کے لیے پاکستان میں چاندی کی قابلِ اعتبار رینج تقریباً 7,811 سے 7,932 روپے فی تولہ بنتی ہے، جبکہ 10 گرام کی قیمت 6,696 سے 6,800.5 روپے کے درمیان سمجھی جا سکتی ہے۔ یعنی خریدار، جیولرز اور چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے اصل بات یہ ہے کہ آج چاندی کی مارکیٹ نچلی 7.8 ہزار تا 7.9 ہزار روپے فی تولہ کی پٹی میں رہی۔ یہ نتیجہ دستیاب مقامی نرخوں کے تقابل سے اخذ کیا گیا ہے۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو اپریل کے آخری ہفتے میں چاندی کے نرخ پہلے ہی نرم پڑ چکے تھے۔ مثال کے طور پر 26 اپریل 2026 کو ایک مقامی رپورٹ میں چاندی 8,001 روپے فی تولہ بتائی گئی تھی، جس سے اشارہ ملتا ہے کہ 28 اپریل تک مارکیٹ یا تو مزید نیچے آئی یا کم از کم اوپری سطح سے پیچھے ہٹی۔
