وزیراعظم شہباز شریف نے قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور پاور سیکٹر میں اصلاحات کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہوگا، بجلی کے نظام کو جدید بنانا ہوگا اور صارفین کو حقیقی ریلیف دینا ہوگا۔
لاہور میں توانائی شعبے سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ بجلی کے شعبے میں اصلاحات صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کے عملی نتائج بھی سامنے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ گھریلو صارفین اور صنعت دونوں کو مستحکم اور نسبتاً سستی بجلی کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اس مقصد کے لیے ترسیلی نظام کی بہتری، لائن لاسز میں کمی، بجلی چوری کی روک تھام اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر فوری پیش رفت ضروری ہے۔
اجلاس میں قابلِ تجدید توانائی کو خاص اہمیت دی گئی۔ وزیراعظم نے زور دیا کہ شمسی، ہوا اور دیگر متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کو تیز کیا جائے تاکہ ملک کی توانائی ضروریات پورا کرنے کے لیے مہنگے درآمدی تیل اور گیس پر بوجھ کم ہو۔ حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ مقامی سطح پر پیدا ہونے والی سستی توانائی نہ صرف بجلی کے نرخوں پر دباؤ کم کر سکتی ہے بلکہ عالمی منڈی میں ایندھن کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ سے معیشت کو بھی کسی حد تک محفوظ بنا سکتی ہے۔
یہ ہدایات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان کا توانائی شعبہ کئی برسوں سے مہنگی پیداوار، فرسودہ انفرااسٹرکچر، ترسیلی نقصانات اور کمزور انتظامی ڈھانچے جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ بظاہر نظام میں بجلی پیدا کرنے کی گنجائش موجود ہوتی ہے، لیکن عملی طور پر ترسیل اور تقسیم کے مسائل صارفین تک سستی اور مسلسل بجلی پہنچانے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب صرف پیداوار بڑھانے کے بجائے پورے نظام کو بہتر بنانے کی بات کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو بجلی کے نرخوں کو مستحکم رکھنے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کرنے کی ہدایت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کا بوجھ کم ہونا چاہیے، جبکہ صنعت کو بھی ایسی بجلی ملنی چاہیے جو پیداواری لاگت میں غیر ضروری اضافہ نہ کرے۔ حکومتی حلقوں میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اگر ترسیلی نظام، بل وصولی اور انتظامی کارکردگی بہتر ہو جائے تو بجلی کے شعبے پر مالی دباؤ میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔
اس سارے معاملے کا ایک اہم معاشی پہلو بھی ہے۔ پاکستان کافی عرصے سے تیل اور گیس کی درآمدات پر انحصار کرتا آیا ہے، اور جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا سیدھا اثر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر، تجارتی خسارے اور بجلی کے نرخوں پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت اب قابلِ تجدید توانائی کو صرف ماحولیاتی یا ترقیاتی منصوبہ نہیں بلکہ معاشی تحفظ کی حکمتِ عملی کے طور پر بھی پیش کر رہی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف ہدایات کافی نہیں ہوں گی۔ اگر حکومت واقعی درآمدی انحصار کم کرنا چاہتی ہے تو اسے گرڈ کی جدیدکاری، ذخیرۂ توانائی، تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی اور پالیسی کے تسلسل جیسے معاملات پر بھی سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے استعمال میں تیزی ضرور آئی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ نیٹ میٹرنگ، گرڈ مینجمنٹ اور لاگت کی منصفانہ تقسیم جیسے نئے سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں۔
فی الحال وزیراعظم کا پیغام واضح ہے: سستی، مقامی اور نسبتاً صاف توانائی کی طرف تیزی سے بڑھا جائے، بجلی چوری اور نقصانات روکے جائیں، اور ایسا نظام بنایا جائے جو عوام اور معیشت دونوں کے لیے زیادہ پائیدار ہو۔ اصل امتحان اب عملدرآمد کا ہے۔ اگر حکومت اپنی ہدایات کو ٹھوس اقدامات میں بدلنے میں کامیاب رہی تو یہ پیش رفت پاکستان کے توانائی بحران میں کچھ حقیقی کمی لا سکتی ہے۔
