MediaHydeMediaHyde
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Font ResizerAa
MediaHydeMediaHyde
Font ResizerAa
  • صفحہ اول
  • سیاست
  • تعلیم
  • انٹرٹینمنٹ
  • کھیل
  • بلاگ
  • کاروبار اور تجارت
  • دیگر
    • مذہبی
    • میٹروپولیٹن
    • موسمیات و ماحولیات
Follow US
© 2026 Media Hyde Network. All Rights Reserved
کاروبار اور تجارت

ایف بی آر نے غیر ظاہر شدہ بیرونی اثاثوں کا سراغ لگانے والا یونٹ بند کر دیا، یو اے ای سے معلومات نہ ملنے پر پیش رفت رک گئی

Last updated: مئی 5, 2026 11:55 شام
Yamna Shahid
Share
ایف بی آر نے غیر ظاہر شدہ بیرونی اثاثوں کا سراغ لگانے والا یونٹ بند کر دیا، یو اے ای سے معلومات نہ ملنے پر پیش رفت رک گئی
ایف بی آر نے غیر ظاہر شدہ بیرونی اثاثوں کا سراغ لگانے والا یونٹ بند کر دیا، یو اے ای سے معلومات نہ ملنے پر پیش رفت رک گئی
SHARE

اسلام آباد: پاکستان کے ٹیکس نظام میں بیرونِ ملک چھپائے گئے اثاثوں کی کھوج کے لیے بنائی گئی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے وابستہ اس مشینری کی سرگرمیاں عملاً سکڑ گئیں جو غیر ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثوں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں موجود جائیدادوں اور مالی مفادات، کا سراغ لگانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ وہ دیرینہ رکاوٹ بتائی جا رہی ہے جس میں یو اے ای حکام پاکستان کو وہاں موجود پاکستانیوں کی غیر منقولہ جائیداد اور بعض متعلقہ شناختی معلومات فراہم نہیں کر رہے۔

یہ معاملہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ ایف بی آر نے 2019 میں آف شور اثاثوں اور بیرونِ ملک جائیدادوں کے کیسز نمٹانے کے لیے ایک خصوصی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا تھا، اور اس وقت ادارے نے بتایا تھا کہ یو اے ای، برطانیہ، پاناما لیکس، پیراڈائز لیکس اور او ای سی ڈی سے متعلق 1,199 کیسز پر کارروائی کی جا چکی ہے۔ صرف یو اے ای سے متعلق 556 کیسز کا ذکر بھی سامنے آیا تھا۔ مگر چند برس بعد صورت حال یہ بنی کہ اصل رکاوٹ معلومات تک رسائی بن گئی، خاص طور پر دبئی اور یو اے ای میں موجود غیر منقولہ جائیداد کے ریکارڈ تک۔

بزنس ریکارڈر کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای حکام نے ایف بی آر کے ساتھ محدود نوعیت کی مالی معلومات، مثلاً بینک اکاؤنٹس، حصص اور بعض ٹرسٹس سے متعلق ڈیٹا تو صرف دو مرتبہ شیئر کیا، لیکن وہاں پاکستانیوں کی ملکیت میں موجود ریئل اسٹیٹ یا غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہی وہ خلا ہے جس نے پاکستان کی ٹیکس مشینری کو سب سے زیادہ متاثر کیا، کیونکہ بیرونِ ملک جائیدادیں اکثر دولت کے ذخیرے کے طور پر دیکھی جاتی ہیں اور ان کی عدم دستیابی نے کئی ممکنہ تحقیقات کو ادھورا چھوڑ دیا۔

اس رکاوٹ کی شدت 2024 میں اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب ڈان کی “دبئی اَن لاکڈ” تحقیقات میں بتایا گیا کہ پاکستانی حکام کئی برس سے دبئی میں پاکستانی شہریوں کے اثاثوں اور رہائشی حیثیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن انہیں بہت کم کامیابی ملی۔ رپورٹ کے مطابق دبئی حکام پاکستانی شہریوں کے رہائشی ویزوں، یعنی اقامہ یا امارات آئی ڈی جیسی بنیادی معلومات تک شیئر کرنے میں بھی ہچکچاہٹ دکھاتے رہے۔ اسی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ موسمِ بہار 2022 تک 23,000 سے زائد جائیدادیں پاکستانی شہریوں کے نام پر درج تھیں۔

ادھر قانونی اور انتظامی ڈھانچے میں بھی کمزوری رہی۔ 2020 کے فنانس ایکٹ میں ایف بی آر کو ایف آئی اے اور بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے معلومات تک “ریئل ٹائم” رسائی کے دائرے کو محدود کر دیا گیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ابتدائی تجویز میں ورک پرمٹس، ایمپلائمنٹ ویزا اور امیگریشن ویزا سمیت زیادہ وسیع معلومات شامل تھیں، مگر حتمی قانون میں ایف آئی اے اور بی او ای ای کی طرف سے رسائی کو بنیادی طور پر “بین الاقوامی سفر کی تفصیلات” تک محدود کر دیا گیا۔ اس تبدیلی نے بیرونی اثاثوں کے سراغ کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا۔

پھر بھی قانون کاغذ پر سخت ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116A کے تحت ہر وہ رہائشی ٹیکس دہندہ فرد جس کی غیر ملکی آمدن کم از کم 10 ہزار امریکی ڈالر ہو یا غیر ملکی اثاثوں کی مالیت ایک لاکھ امریکی ڈالر یا اس سے زیادہ ہو، اسے “فارن انکم اینڈ ایسیٹس اسٹیٹمنٹ” جمع کرانا ہوتا ہے۔ یعنی اعلان کا قانونی تقاضا موجود ہے، اصل مسئلہ اس کی تصدیق اور نفاذ میں ہے۔

ایف بی آر کے پاس آٹومیٹک ایکسچینج آف انفارمیشن، یعنی AEOI/CRS، کا نظام بھی موجود ہے اور ادارہ اسے اپنے بین الاقوامی ڈیٹا ایکسچینج فریم ورک کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن دستیاب رپورٹس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یو اے ای کے معاملے میں مالیاتی معلومات اور غیر منقولہ جائیداد کے ڈیٹا میں واضح فرق رہا، اور سب سے اہم خلا وہیں پیدا ہوا جہاں اثاثوں کی اصل مالیت اور ملکیت کا سراغ درکار تھا۔

بعد کے عرصے میں یہ مسئلہ صرف میڈیا رپورٹنگ تک محدود نہیں رہا۔ 2025 میں فیڈرل ٹیکس محتسب کے دائرے میں بھی ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالات اٹھے، خاص طور پر یو اے ای گولڈن ویزا ہولڈرز اور بیرونی اثاثوں سے متعلق معلومات کے تعاقب میں سست روی پر۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر بھی اس معاملے کو ناکامی یا کم از کم غیر مؤثر عمل درآمد کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔

اس تمام پس منظر میں اگر غیر ظاہر شدہ بیرونی اثاثوں کا سراغ لگانے والا یونٹ بند، غیر فعال یا محدود کر دیا گیا ہے، تو یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی پالیسی ناکامی کی علامت سمجھا جائے گا۔ سادہ الفاظ میں، پاکستان کے پاس قانون موجود ہے، اعلان کا نظام موجود ہے، کچھ بین الاقوامی مالیاتی معلومات تک رسائی بھی موجود ہے، لیکن جہاں جائیداد، رہائشی حیثیت اور اصل مفاداتی ملکیت کی تصدیق درکار ہو، وہاں یو اے ای سے مکمل تعاون نہ ملنے کے باعث پوری مشق کمزور پڑ جاتی ہے۔

اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس معاملے کو دوطرفہ سفارتی سطح پر اٹھائے گی، یا پھر لیک شدہ ڈیٹا، تیسرے فریق کی معلومات اور مقامی ایجنسیوں کے ریکارڈ کو جوڑ کر نیا راستہ نکالے گی۔ فی الحال منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ بیرونِ ملک چھپائے گئے اثاثوں کے خلاف کارروائی کا بیانیہ سخت ضرور ہے، مگر اس کی عملی بنیاد ابھی تک کمزور ہے

Share This Article
Facebook Whatsapp Whatsapp Email Copy Link Print
Previous Article وزیراعظم کا قابلِ تجدید توانائی پر زور، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بجلی اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت وزیراعظم کا قابلِ تجدید توانائی پر زور، درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے بجلی اصلاحات تیز کرنے کی ہدایت
Next Article وزیراعظم کی ایف بی آر کو ہدایت، محصولات بڑھانے کے لیے انفورسمنٹ مزید سخت کی جائے وزیراعظم کی ایف بی آر کو ہدایت، محصولات بڑھانے کے لیے انفورسمنٹ مزید سخت کی جائے
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

اشتہار

FacebookLike
XFollow
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
WhatsAppFollow
ThreadsFollow
ایس ایف جے کا کراچی حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ، رینجرز کو خراجِ تحسین
ایس ایف جے کا کراچی حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ، رینجرز کو خراجِ تحسین
تازہ ترین سیاست
جون 29, 2026
کورنگی کراسنگ: تیزاب گردی کا واقعہ، نوجوان خاتون جھلس کر زخمی
کورنگی کراسنگ: تیزاب گردی کا واقعہ، نوجوان خاتون جھلس کر زخمی
تازہ ترین عدالت اور جرائم
جون 29, 2026
جولائی کے پہلے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کا آغاز، اربن فلڈنگ کا خدشہ
جولائی کے پہلے ہفتے سے ملک بھر میں مون سون بارشوں کا آغاز، اربن فلڈنگ کا خدشہ
تازہ ترین موسمیات و ماحولیات
جون 29, 2026
گوگل نے اپنے ڈیجیٹل والیٹ میں پارسل ٹریکنگ کا نیا خودکار فیچر متعارف کرا دیا
گوگل نے اپنے ڈیجیٹل والیٹ میں پارسل ٹریکنگ کا نیا خودکار فیچر متعارف کرا دیا
کاروبار اور تجارت
جون 29, 2026
اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی؛ سٹہ بازی اور خریداروں کی دلچسپی برقرار
اوپن مارکیٹ میں پاکستانی روپے کے مقابلے ایرانی ریال کی قیمت میں کمی؛ سٹہ بازی اور خریداروں کی دلچسپی برقرار
کاروبار اور تجارت
جون 29, 2026
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل، زخمی بہو پانچ گھنٹے مدد کی منتظر رہی
کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل، زخمی بہو پانچ گھنٹے مدد کی منتظر رہی
تازہ ترین عدالت اور جرائم
جون 29, 2026

You Might Also Like

حکومتِ پاکستان نے چھوٹے دکانداروں اور تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے نئی اسکیم متعارف کرا دی ہے، جس کا مقصد ٹیکس وصولیوں میں اضافہ اور معیشت کو دستاویزی شکل دینا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کے تحت چھوٹے کاروباروں کی رجسٹریشن کو آسان بنایا جائے گا اور تاجروں کو سادہ طریقہ کار کے ذریعے ٹیکس نظام کا حصہ بننے کی ترغیب دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم ٹیکس دہندگان کی تعداد بڑھانے اور موجودہ ٹیکس دہندگان پر بوجھ کم کرنے کے لیے شروع کی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ تاجروں کی رہنمائی کے لیے آگاہی مہم اور سہولت مراکز بھی قائم کیے جائیں گے تاکہ رجسٹریشن اور ٹیکس سے متعلق معاملات میں آسانی فراہم کی جا سکے۔ ماہرینِ معیشت کے مطابق اس منصوبے کی کامیابی مؤثر عملدرآمد اور کاروباری برادری کے تعاون پر منحصر ہوگی۔
pakistanکاروبار اور تجارت

حکومت کا چھوٹے دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نئی اسکیم شروع کرنے کا اعلان

By Mabruka Khan
21 مئی 2026 کو سعودی ریال 75 روپے سے اوپر، پاکستان اوپن مارکیٹ میں فروخت 75.20 روپے
pakistanکاروبار اور تجارت

21 مئی 2026 کو سعودی ریال 75 روپے سے اوپر، پاکستان اوپن مارکیٹ میں فروخت 75.20 روپے

By Mabruka Khan
خلیجی کشیدگی کے بیچ حکومت نے ریفائنری پالیسی بحال کرنے کی کوشش تیز کر دی
کاروبار اور تجارت

خلیجی کشیدگی کے بیچ حکومت نے ریفائنری پالیسی بحال کرنے کی کوشش تیز کر دی

By Yamna Shahid
بلومبرگ کا صاف توانائی کے منصوبوں کے لیے 285 ملین ڈالر دینے کا اعلان
کاروبار اور تجارت

بلومبرگ کا صاف توانائی کے منصوبوں کے لیے 285 ملین ڈالر دینے کا اعلان

By Mabruka Khan
MediaHyde
Facebook Twitter Youtube Rss Medium

About US

Your instant connection to breaking stories and live updates. Stay informed with our real-time coverage across politics, tech, entertainment, and more. Your reliable source for 24/7 news.

Top Categories
  • تازہ ترین
  • سیاست
  • انٹرٹینمنٹ
  • تعلیم
  • کھیل
  • مذہبی
  • میٹروپولیٹن
  • موسمیات و ماحولیات
Usefull Links
  • Contact Us
  • Disclaimer
  • Privacy Policy
  • Cookies Policy
  • Advertising Policy
  • Terms & Conditions

© 2025 Media Hyde Network. All Rights Reserved.

Welcome Back!

Sign in to your account

Username or Email Address
Password

Lost your password?