اسلام آباد: پاکستان کے ٹیکس نظام میں بیرونِ ملک چھپائے گئے اثاثوں کی کھوج کے لیے بنائی گئی کوششوں کو ایک بڑا دھچکا اس وقت لگا جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے وابستہ اس مشینری کی سرگرمیاں عملاً سکڑ گئیں جو غیر ظاہر شدہ غیر ملکی اثاثوں، خاص طور پر متحدہ عرب امارات میں موجود جائیدادوں اور مالی مفادات، کا سراغ لگانے کے لیے قائم کی گئی تھی۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ وہ دیرینہ رکاوٹ بتائی جا رہی ہے جس میں یو اے ای حکام پاکستان کو وہاں موجود پاکستانیوں کی غیر منقولہ جائیداد اور بعض متعلقہ شناختی معلومات فراہم نہیں کر رہے۔
یہ معاملہ اچانک پیدا نہیں ہوا۔ ایف بی آر نے 2019 میں آف شور اثاثوں اور بیرونِ ملک جائیدادوں کے کیسز نمٹانے کے لیے ایک خصوصی ڈائریکٹوریٹ قائم کیا تھا، اور اس وقت ادارے نے بتایا تھا کہ یو اے ای، برطانیہ، پاناما لیکس، پیراڈائز لیکس اور او ای سی ڈی سے متعلق 1,199 کیسز پر کارروائی کی جا چکی ہے۔ صرف یو اے ای سے متعلق 556 کیسز کا ذکر بھی سامنے آیا تھا۔ مگر چند برس بعد صورت حال یہ بنی کہ اصل رکاوٹ معلومات تک رسائی بن گئی، خاص طور پر دبئی اور یو اے ای میں موجود غیر منقولہ جائیداد کے ریکارڈ تک۔
بزنس ریکارڈر کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق یو اے ای حکام نے ایف بی آر کے ساتھ محدود نوعیت کی مالی معلومات، مثلاً بینک اکاؤنٹس، حصص اور بعض ٹرسٹس سے متعلق ڈیٹا تو صرف دو مرتبہ شیئر کیا، لیکن وہاں پاکستانیوں کی ملکیت میں موجود ریئل اسٹیٹ یا غیر منقولہ جائیداد کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ یہی وہ خلا ہے جس نے پاکستان کی ٹیکس مشینری کو سب سے زیادہ متاثر کیا، کیونکہ بیرونِ ملک جائیدادیں اکثر دولت کے ذخیرے کے طور پر دیکھی جاتی ہیں اور ان کی عدم دستیابی نے کئی ممکنہ تحقیقات کو ادھورا چھوڑ دیا۔
اس رکاوٹ کی شدت 2024 میں اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب ڈان کی “دبئی اَن لاکڈ” تحقیقات میں بتایا گیا کہ پاکستانی حکام کئی برس سے دبئی میں پاکستانی شہریوں کے اثاثوں اور رہائشی حیثیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے، لیکن انہیں بہت کم کامیابی ملی۔ رپورٹ کے مطابق دبئی حکام پاکستانی شہریوں کے رہائشی ویزوں، یعنی اقامہ یا امارات آئی ڈی جیسی بنیادی معلومات تک شیئر کرنے میں بھی ہچکچاہٹ دکھاتے رہے۔ اسی تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ موسمِ بہار 2022 تک 23,000 سے زائد جائیدادیں پاکستانی شہریوں کے نام پر درج تھیں۔
ادھر قانونی اور انتظامی ڈھانچے میں بھی کمزوری رہی۔ 2020 کے فنانس ایکٹ میں ایف بی آر کو ایف آئی اے اور بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ سے معلومات تک “ریئل ٹائم” رسائی کے دائرے کو محدود کر دیا گیا۔ بزنس ریکارڈر کے مطابق ابتدائی تجویز میں ورک پرمٹس، ایمپلائمنٹ ویزا اور امیگریشن ویزا سمیت زیادہ وسیع معلومات شامل تھیں، مگر حتمی قانون میں ایف آئی اے اور بی او ای ای کی طرف سے رسائی کو بنیادی طور پر “بین الاقوامی سفر کی تفصیلات” تک محدود کر دیا گیا۔ اس تبدیلی نے بیرونی اثاثوں کے سراغ کی صلاحیت کو مزید کمزور کیا۔
پھر بھی قانون کاغذ پر سخت ہے۔ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 116A کے تحت ہر وہ رہائشی ٹیکس دہندہ فرد جس کی غیر ملکی آمدن کم از کم 10 ہزار امریکی ڈالر ہو یا غیر ملکی اثاثوں کی مالیت ایک لاکھ امریکی ڈالر یا اس سے زیادہ ہو، اسے “فارن انکم اینڈ ایسیٹس اسٹیٹمنٹ” جمع کرانا ہوتا ہے۔ یعنی اعلان کا قانونی تقاضا موجود ہے، اصل مسئلہ اس کی تصدیق اور نفاذ میں ہے۔
ایف بی آر کے پاس آٹومیٹک ایکسچینج آف انفارمیشن، یعنی AEOI/CRS، کا نظام بھی موجود ہے اور ادارہ اسے اپنے بین الاقوامی ڈیٹا ایکسچینج فریم ورک کے طور پر پیش کرتا ہے۔ لیکن دستیاب رپورٹس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ یو اے ای کے معاملے میں مالیاتی معلومات اور غیر منقولہ جائیداد کے ڈیٹا میں واضح فرق رہا، اور سب سے اہم خلا وہیں پیدا ہوا جہاں اثاثوں کی اصل مالیت اور ملکیت کا سراغ درکار تھا۔
بعد کے عرصے میں یہ مسئلہ صرف میڈیا رپورٹنگ تک محدود نہیں رہا۔ 2025 میں فیڈرل ٹیکس محتسب کے دائرے میں بھی ایف بی آر کی کارکردگی پر سوالات اٹھے، خاص طور پر یو اے ای گولڈن ویزا ہولڈرز اور بیرونی اثاثوں سے متعلق معلومات کے تعاقب میں سست روی پر۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ جاتی سطح پر بھی اس معاملے کو ناکامی یا کم از کم غیر مؤثر عمل درآمد کے طور پر دیکھا جا رہا تھا۔
اس تمام پس منظر میں اگر غیر ظاہر شدہ بیرونی اثاثوں کا سراغ لگانے والا یونٹ بند، غیر فعال یا محدود کر دیا گیا ہے، تو یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک بڑی پالیسی ناکامی کی علامت سمجھا جائے گا۔ سادہ الفاظ میں، پاکستان کے پاس قانون موجود ہے، اعلان کا نظام موجود ہے، کچھ بین الاقوامی مالیاتی معلومات تک رسائی بھی موجود ہے، لیکن جہاں جائیداد، رہائشی حیثیت اور اصل مفاداتی ملکیت کی تصدیق درکار ہو، وہاں یو اے ای سے مکمل تعاون نہ ملنے کے باعث پوری مشق کمزور پڑ جاتی ہے۔
اب اگلا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت اس معاملے کو دوطرفہ سفارتی سطح پر اٹھائے گی، یا پھر لیک شدہ ڈیٹا، تیسرے فریق کی معلومات اور مقامی ایجنسیوں کے ریکارڈ کو جوڑ کر نیا راستہ نکالے گی۔ فی الحال منظرنامہ یہی بتاتا ہے کہ بیرونِ ملک چھپائے گئے اثاثوں کے خلاف کارروائی کا بیانیہ سخت ضرور ہے، مگر اس کی عملی بنیاد ابھی تک کمزور ہے
