وزیراعظم شہباز شریف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ہدایت دی ہے کہ محصولات میں اضافے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے انفورسمنٹ کو مزید مؤثر بنایا جائے۔ اسلام آباد میں ایف بی آر امور کے ہفتہ وار جائزہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ معیشت کے زیادہ تر پیداواری شعبوں کو خودکار نگرانی کے نظام میں لایا جائے تاکہ ٹیکس وصولی بہتر ہو سکے۔
حکومت کے لیے یہ محض ایک انتظامی ہدایت نہیں بلکہ مالی دباؤ کے پس منظر میں ایک واضح پالیسی اشارہ ہے۔ سرکاری رپورٹنگ کے مطابق وزیراعظم نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی، نگرانی اور ڈیجیٹل نظاموں کے ذریعے نہ صرف ریونیو بڑھایا جائے بلکہ ٹیکس چوری کے راستے بھی بند کیے جائیں۔ اجلاس میں پی آر اے ایل کو مزید فعال بنانے اور مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل نگرانی بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
اس وقت ایف بی آر کو اپنے اہداف کے حوالے سے خاصا دباؤ درپیش ہے۔ مارچ 2026 کے اختتام پر سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق جولائی تا مارچ ایف بی آر کی وصولیاں ہدف سے تقریباً 610 ارب روپے کم رہیں، جبکہ فروری تک یہ خسارہ 430 ارب روپے کے قریب بتایا گیا تھا۔ یہ اعداد واضح کرتے ہیں کہ صرف روایتی طریقوں سے ہدف حاصل کرنا آسان نہیں رہا، اسی لیے انفورسمنٹ اور خودکار نگرانی کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
اس پالیسی کی بنیاد پچھلے کئی مہینوں سے بنتی دکھائی دیتی ہے۔ ایف بی آر چیئرمین راشد محمود لنگڑیال پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ انفورسمنٹ ٹیکس لیکیجز روکنے، مقدمات نمٹانے اور خاص طور پر ریٹیل و ہول سیل شعبوں میں ٹیکس نیٹ بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کرے گی۔ ان کے مطابق حکومت انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 390 ارب روپے جمع کر چکی تھی، اور اگلے مالی سال کے لیے بھی تقریباً اسی نوعیت کی وصولی کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔
یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ دستیاب مصدقہ رپورٹس سے یہ بات تو واضح ہوتی ہے کہ وزیراعظم نے انفورسمنٹ مضبوط کرنے اور ریونیو بڑھانے کی ہدایت دی، مگر مجھے کوئی قابلِ اعتماد ماخذ نہیں ملا جس میں یہ صاف طور پر کہا گیا ہو کہ اگلے سال انفورسمنٹ سے حاصل ہونے والی آمدن دوگنی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ موجودہ شواہد “انفورسمنٹ مزید سخت کرنے” اور “اسی نوعیت کی متوقع وصولیوں” کی حمایت کرتے ہیں، مگر “دوگنا” کا لفظ مصدقہ طور پر سامنے نہیں آیا۔
بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں ٹیکس مقدمات کے فیصلوں، ڈیجیٹل انوائسنگ اور نگرانی کے نظام سے متعلق پیش رفت بھی زیرِ غور آئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان ٹیکس مقدمات کے فیصلوں سے 102.9 ارب روپے حاصل ہوئے، جبکہ زیرِ التوا مقدمات سے جون 2026 تک مزید 369 ارب روپے آنے کی توقع ظاہر کی گئی۔ اسی طرح ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم نے جنوری اور فروری میں 800 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز پروسیس کیں۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو حکومت اب ریونیو بڑھانے کے لیے دو راستے ساتھ ساتھ چلانا چاہتی ہے: ایک طرف ٹیکنالوجی اور خودکار نگرانی، دوسری طرف سخت انفورسمنٹ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکمتِ عملی محصولات کے بڑے خسارے کو واقعی کم کر پائے گی یا نہیں۔ فی الحال حکومت کا اندازہ یہی لگتا ہے کہ ٹیکس کی شرحیں بڑھانے کے بجائے نفاذ، نگرانی اور دستاویزی معیشت کو وسعت دے کر زیادہ فوری نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔
