اسلام آباد — وفاقی وزیرِ بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کراچی پورٹ ٹرسٹ (KPT) کے ٹرمینلز پر اسٹوریج چارجز میں 25 سے 50 فیصد تک رعایت دینے کا اعلان کیا ہے تاکہ خلیجی ممالک کے لیے برآمدی شپمنٹس میں حالیہ تعطل سے متاثر ہونے والے ایکسپورٹرز کو ریلیف دیا جا سکے۔ رپورٹس کے مطابق تاخیر سے روانگیوں کے باعث برآمدی کنٹینرز ٹرمینل یارڈز میں پھنس گئے تھے، جس سے تاجروں پر اضافی مالی دباؤ بڑھا۔
تازہ کاروباری رپورٹوں کے مطابق یہ رعایت ٹرمینل آپریٹرز سے مشاورت کے بعد طے کی گئی، اور اس کا مقصد ان برآمدکنندگان کو فوری سہارا دینا ہے جن کا کارگو شیڈول متاثر ہونے کے باعث بندرگاہ پر رکا رہا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حکومت اس اقدام کو ایک وسیع، مستقل ٹیرف کٹوتی کے بجائے ہنگامی اور ہدفی ریلیف کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
اس اعلان کا ایک اہم پس منظر بھی ہے۔ مارچ 2026 میں وزیرِ بحری امور نے کراچی پورٹ کو زیادہ مسابقتی بنانے کے لیے ایک وسیع تر مراعاتی پیکیج بھی متعارف کرایا تھا، جس کے تحت خشک بلک برآمدی کارگو کے لیے پورٹ ڈیوز، وارفج اور اسٹوریج چارجز میں 60 فیصد رعایت دی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حالیہ اسٹوریج ریلیف صرف ایک الگ فیصلہ نہیں، بلکہ بندرگاہی لاگت کم کرنے اور تجارت سہل بنانے کی بڑی پالیسی کا حصہ ہے۔
کچھ مقامی رپورٹوں میں ٹرمینل وار تفصیل بھی سامنے آئی ہے، جن کے مطابق مختلف ادوار کے لیے مختلف شرح سے رعایت دی جا رہی ہے۔ تاہم، میرے پاس اس تقسیم کی باقاعدہ سرکاری نوٹیفکیشن موجود نہیں ہے، اس لیے اس حصے کو احتیاط سے دیکھنا چاہیے۔ جو بات واضح ہے وہ یہ کہ حکومت نے برآمدی تاخیر سے پیدا ہونے والی لاگت کو کم کرنے کے لیے کے پی ٹی سطح پر عملی قدم اٹھایا ہے۔
اس اقدام کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ برآمدکنندگان اکثر یہ شکایت کرتے رہے ہیں کہ شپنگ میں تاخیر کا سب سے فوری اثر اسٹوریج بلز، ورکنگ کیپیٹل پر دباؤ، اور ڈیلیوری شیڈول کی خرابی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسے میں یہ رعایت وقتی سہی، مگر ان کاروباروں کے لیے کچھ سانس لینے کی گنجائش پیدا کر سکتی ہے جو پہلے ہی لاگت اور مسابقت کے دباؤ سے گزر رہے ہیں۔
ابھی چند سوال باقی ہیں: اس ریلیف سے مجموعی طور پر کتنے ایکسپورٹرز فائدہ اٹھائیں گے، اس کی مالی مالیت کیا ہوگی، اور اگر خلیجی روٹس پر رکاوٹیں برقرار رہیں تو کیا مزید رعایتیں بھی دی جائیں گی۔ فی الحال حکومت کا پیغام سادہ ہے — حالیہ شپمنٹ تعطل سے متاثر برآمدکنندگان کو کراچی پورٹ پر اسٹوریج لاگت میں فوری ریلیف دیا جائے گا۔
