لاس اینجلس — برسوں کی افواہوں، فین تھیوریز اور ادھوری خبروں کے بعد اب یہ بات کافی حد تک واضح ہو چکی ہے کہ ’دی ممی 4‘ واقعی بن رہی ہے، اور اس بار فرنچائز اپنے سب سے پسندیدہ چہروں کے ساتھ واپس آ رہی ہے۔ تازہ انٹرٹینمنٹ رپورٹس کے مطابق برینڈن فریزر ایک بار پھر رک او’کونل کے کردار میں نظر آئیں گے، جبکہ ریچل وائز بھی ایولین کے طور پر واپسی کر رہی ہیں۔
اس منصوبے کو صرف ایک اور ریبوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا۔ موجودہ رپورٹس کا تاثر یہ ہے کہ یونیورسل اس فلم کو فریزر دور کی ایڈونچر-ہاروَر روایت کے تسلسل کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے، یعنی وہی انداز جس نے 1999 کی The Mummy اور پھر The Mummy Returns کو ناظرین میں غیرمعمولی مقبولیت دی تھی۔
ہدایت کاری میٹ بیٹینیلی-اولپن اور ٹائلر گیلیٹ کر رہے ہیں، جو Radio Silence ٹیم کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق فلم کی ریلیز تاریخ بھی تبدیل کی گئی ہے، اور جو منصوبہ پہلے 19 مئی 2028 کے لیے بتایا جا رہا تھا، اسے اب آگے لا کر 15 اکتوبر 2027 کر دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلی معمولی نہیں۔ اکتوبر کی ریلیز اس بات کا اشارہ سمجھی جا رہی ہے کہ اسٹوڈیو اس فلم کو کلاسک مونسٹر-ایڈونچر فضا کے ساتھ زیادہ مضبوطی سے جوڑنا چاہتا ہے۔
اس خبر کی اصل کشش یقیناً کاسٹ کی واپسی ہے۔ برینڈن فریزر پہلے ہی اس پراجیکٹ کے وجود کی تصدیق کر چکے ہیں، اور پچھلی رپورٹوں میں یہ بھی سامنے آیا تھا کہ وہ اس واپسی کو مداحوں کی دیرینہ خواہش سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ریچل وائز کی شمولیت اس لیے بھی اہم ہے کہ 2008 کی تیسری فلم میں ان کی عدم موجودگی کو فرنچائز کے شائقین نے ہمیشہ محسوس کیا تھا۔ اب دونوں کی ایک ساتھ واپسی نے اس سیکوئل کے گرد جوش کو کہیں زیادہ بڑھا دیا ہے۔
یہ پیش رفت یونیورسل کے لیے بھی معنی رکھتی ہے۔ 2017 میں ٹام کروز کے ساتھ The Mummy کے ذریعے اسٹوڈیو نے ایک نئی “Dark Universe” دنیا بنانے کی کوشش کی تھی، مگر وہ منصوبہ خاص کامیابی حاصل نہ کر سکا۔ نئی فلم کا راستہ اس کے برعکس دکھائی دیتا ہے: نیا سانچہ بنانے کے بجائے پرانے، مقبول اور آزمودہ فارمولے کی طرف واپسی۔ یوں لگتا ہے کہ اسٹوڈیو نے سمجھ لیا ہے کہ اس فرنچائز کی اصل طاقت صرف راکشس یا اسپیشل ایفیکٹس نہیں، بلکہ وہ کردار اور ان کے درمیان کی کیمسٹری بھی ہے جن سے ناظرین دو دہائیاں پہلے جڑ گئے تھے۔
فلم کی کہانی ابھی خفیہ رکھی گئی ہے، اور اس مرحلے پر یہ غیرمعمولی بات نہیں۔ تاہم موجودہ اطلاعات سے اتنا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ اس مرتبہ توجہ اسی مہماتی، تیز رفتار اور قدرے پَرلطف انداز پر ہوگی جس نے ابتدائی فلموں کو الگ شناخت دی تھی۔ ایک ایسے وقت میں جب ہالی ووڈ میں ریبوٹس کی بھرمار ہے، The Mummy 4 کی سب سے بڑی امید شاید یہی ہے کہ وہ ناظرین کو کوئی بالکل اجنبی چیز نہیں، بلکہ ایک مانوس مگر تازہ تجربہ دے۔
