ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے منگل 28 اپریل کو اعلان کیا ہے کہ وہ یکم مئی 2026 سے اوپیک اور اوپیک پلس، دونوں اتحادوں سے علیحدہ ہو جائے گا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی توانائی منڈی پہلے ہی غیر یقینی صورتحال اور دباؤ کا شکار ہے۔
اعلان میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ ملک کی تیل پیداوار سے متعلق پالیسی، موجودہ اور مستقبل کی پیداواری صلاحیت، اور قومی مفاد کا جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اب توانائی کے شعبے میں اپنے فیصلوں کے لیے زیادہ آزادی چاہتا ہے تاکہ بدلتی ہوئی عالمی طلب کے مطابق زیادہ لچک کے ساتھ ردعمل دیا جا سکے۔
سرکاری مؤقف کے مطابق ملک نے حالیہ برسوں میں اپنی تیل پیداوار بڑھانے کے لیے نمایاں سرمایہ کاری کی ہے، اور اب وہ اپنی بڑھتی ہوئی پیداواری صلاحیت کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنا چاہتا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اضافی پیداوار مارکیٹ کی طلب اور حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بتدریج لائی جائے گی، تاکہ اچانک سپلائی بڑھنے کے خدشات کم کیے جا سکیں۔
متحدہ عرب امارات کا یہ فیصلہ اوپیک اور اوپیک پلس کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ یہ اتحاد کافی حد تک رکن ممالک کے باہمی تعاون اور منڈی میں نظم و ضبط کے تاثر پر قائم رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات اس گروپ کا ایک اہم تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اس لیے اس کی علیحدگی نہ صرف اتحاد کی ساکھ بلکہ اس کے مستقبل کے کردار پر بھی سوالات اٹھا سکتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے صرف معاشی نہیں بلکہ سیاسی عوامل بھی کارفرما ہو سکتے ہیں۔ خطے میں اثر و رسوخ، پیداوار کی حدوں اور توانائی پالیسیوں پر اختلافات پہلے ہی بحث کا موضوع رہے ہیں، اور موجودہ فیصلہ انہی کشیدگیوں کا تسلسل بھی سمجھا جا رہا ہے۔
عالمی تیل منڈی کے لیے یہ پیش رفت اس لیے بھی اہم ہے کہ تیل کی قیمتیں پہلے ہی جغرافیائی سیاسی خطرات، سپلائی خدشات اور طلب میں اتار چڑھاؤ کے باعث دباؤ میں ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی بڑے پیداواری ملک کا اس نوعیت کا قدم منڈی کے اعتماد کو متاثر کر سکتا ہے۔
اگرچہ متحدہ عرب امارات نے اپنے اعلان میں عالمی منڈی کے استحکام سے وابستگی کا اظہار کیا ہے، تاہم اس فیصلے نے یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آیا یہ صرف ایک الگ واقعہ ہے یا پھر اوپیک پلس کے اندر مزید تبدیلیوں کا آغاز۔
