ماؤنٹین ویو، کیلیفورنیا — گوگل نے اپنے مصنوعی ذہانت کے صوتی نظام جیمنائی لائیو کو مزید بہتر بناتے ہوئے اس میں میموری (یادداشت) کا فیچر متعارف کروا دیا ہے۔ اس نئی تبدیلی کے بعد جیمنائی لائیو کے ساتھ کی جانے والی صوتی گفتگو ماضی کے سیشنز کی تفصیلات کو یاد رکھ سکے گی، اور صارف کو ہر بار نئی بات چیت کا آغاز بالکل صفر سے نہیں کرنا پڑے گا۔
ایک تکنیکی رپورٹ کے مطابق گوگل کے معلوماتی صفحے پر یہ تفصیلات سامنے آئی ہیں کہ جیمنائی لائیو اب پرانی چیٹس کی معلومات کو محفوظ رکھنے اور صارف سے وابستہ دیگر ایپلی کیشنز کے ڈیٹا کو ضرورت کے وقت استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس اہم پیش رفت کے بعد جیمنائی لائیو صارف کی بتائی گئی مخصوص تفصیلات (جیسے کہ کھانے پینے کی الرجی یا خاندان کی اہم تاریخیں) یاد رکھے گا، جس کی وجہ سے صارفین کو ایک ہی معلومات بار بار دہرانے کی زحمت نہیں کرنا پڑے گی۔
یہ اپ ڈیٹ جیمنائی کے لکھی جانے والی اور بول کر کی جانے والی گفتگو کے فارمیٹس کے درمیان موجود ایک بڑے فرق کو ختم کرتی ہے۔ لکھی جانے والی چیٹ میں یادداشت کا فیچر ایک سال سے زائد عرصے سے موجود تھا، لیکن جیمنائی لائیو اس سے محروم تھا، جس کی وجہ سے ٹائپ کرنے اور بول کر بات کرنے کے تجربے میں یکسانیت نہیں تھی۔ اب اس خلیج کو پاٹ دیا گیا ہے، تاہم اینڈرائیڈ فونز پر پرسنل انٹیلیجنس کی سیٹنگز میں اب بھی اس فیچر کے سامنے ‘جلد آ رہا ہے’ لکھا نظر آتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیچر ابھی مرحلہ وار تمام صارفین تک پہنچایا جا رہا ہے۔
تکنیکی ماہرین کا کہنا ہے کہ یادداشت ایک ایسا فیچر ہے جس کی کمی صارفین کو سب سے زیادہ محسوس ہوتی تھی۔ جیمنائی لائیو یہ صلاحیت حاصل کرنے میں اپنے سب سے بڑے مدمقابل چیٹ جی پی ٹی کے وائس موڈ سے پیچھے تھا، جو یہ کام کافی عرصے سے کر رہا ہے۔ اس فیچر کے اضافے سے جیمنائی لائیو کا روزمرہ کا استعمال اب پہلے سے کہیں زیادہ مفید ہو جائے گا۔ یہ فیچر فی الحال صرف امریکہ میں انگریزی زبان کے لیے جاری کیا گیا ہے، اور توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں اسے دیگر زبانوں اور ممالک کے لیے بھی فعال کر دیا جائے گا۔
