سائنسی ماہرین نے مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے لیبارٹری میں مکمل طور پر نئے اور مصنوعی وائرس ڈیزائن کر لیے ہیں۔ یہ پیش رفت حیاتیاتی تحقیق کے روایتی طریقوں کو بدل رہی ہے، اور اس کے ساتھ ہی سیکیورٹی ماہرین میں ان ٹولز کے غلط استعمال کے حوالے سے تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔
یہ عمل بڑے لینگوئج ماڈلز اور پروٹین فولڈنگ الگورتھمز کے ذریعے ممکن ہوا ہے۔ وہی ٹیکنالوجی جو جان بچانے والی ادویات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے، اب وائرل شیلز کے جینیاتی سیکوینسز تیار کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ یہ ماڈل پروٹینز کے جڑنے کے طریقے کی پیش گوئی کر کے ایسے وائرس تخلیق کر سکتے ہیں جو قدرتی طور پر کبھی وجود میں نہیں آئے۔
خطرات فوری نوعیت کے ہیں۔ اگرچہ اس تحقیق کا بنیادی مقصد بہتر ویکسین بنانا اور وائرس کے دفاعی نظام کو سمجھنا ہے، لیکن یہی نقشے کسی بھی غیر ذمہ دار گروہ کو نجی لیب میں نیا پیتھوجین (مرض پیدا کرنے والا جراثیم) بنانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ ماضی کے حیاتیاتی ہتھیاروں کے برعکس، جن کا انحصار موجودہ وائرسز میں تبدیلی پر ہوتا تھا، یہ ساختہ سیکوینسز مکمل طور پر مصنوعی ہیں، یعنی ان میں وہ "جینیاتی نشانات” نہیں ہوتے جنہیں استعمال کر کے صحت کے عالمی ادارے وباؤں کو ٹریک کرتے ہیں۔
کمپیوٹیشنل بائیولوجسٹ ڈاکٹر ایلینا روسی نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "ہم اب ایسی دنیا میں داخل ہو چکے ہیں جہاں وائرس دریافت نہیں بلکہ تیار کیے جا رہے ہیں۔ پیتھوجین ڈیزائن کرنے کے لیے اب پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں، یہ ایک پراپٹ انجینئرنگ کا کام بن چکا ہے۔”
فی الحال بحث اس بات پر مرکوز ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا استعمال دو رخی ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہی ٹولز اگلی ممکنہ وبا کی پیش گوئی اور فوری علاج کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق، اس تحقیق کے بغیر ہم وائرس کے قدرتی ارتقاء کے مقابلے میں ہمیشہ پیچھے رہیں گے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اوپن سورس ماڈلز میں حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ کمرشل ماڈلز میں کیمیائی ہتھیاروں کے فارمولوں کے خلاف فلٹرز موجود ہیں، لیکن حیاتیاتی سیکوینس جنریٹرز کو ابھی تک کسی ضابطے کے تحت نہیں لایا گیا۔
عالمی ریگولیٹری ادارے اس ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ چلنے میں ناکام رہے ہیں۔ امریکہ کے محکمہ صحت نے مصنوعی ڈی این اے آرڈرز کی جانچ کے لیے کچھ رہنما اصول جاری کیے تھے، لیکن وہ اصول بھی صرف ان سیکوینسز کو پہچان سکتے ہیں جو پہلے سے معلوم ہیں۔ یہ ادارے ان مصنوعی سیکوینسز کو پہچاننے سے قاصر ہیں جو کسی معلوم ڈیٹا بیس سے میل نہیں کھاتے۔
فی الحال یہ ٹیکنالوجی اعلیٰ تحقیقی اداروں تک محدود ہے۔ تاہم جیسے جیسے ماڈلز تک رسائی آسان اور کمپیوٹنگ سستی ہو رہی ہے، نظریاتی خطرے اور عملی حقیقت کے درمیان فاصلہ سمٹ رہا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کیا ہم نیا وائرس ڈیزائن کر سکتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہمارے پاس ایسے انفراسٹرکچر موجود ہیں جو لیبارٹری سے باہر نکلنے سے پہلے اس خطرے کو بھانپ سکیں۔
